واقعات صحیحہ — Page 49
۴۹ اور مرزا اُن سے خوف کھا کر بھاگ گیا۔یہ عجیب زمانہ ہے کہ اس قدر منہ پر جھوٹ بولا جاتا ہے۔پیر صاحب کا وہ کون سا اشتہار ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ میں کوئی زیادہ شرط نہیں کرتا مجھے بالمقابل عربی فصیح میں تفسیر لکھنا منظور ہے اور اسی پر فریقین کے صدق و کذب کا فیصلہ ہوگا اور اس کے ساتھ کوئی شرط زائد نہیں لگائی جائے گی ہاں منہ سے تو کہتے ہیں کہ شرطیں منظور ہیں مگر پھر ساتھ ہی یہ حجت پیش کر دیتے ہیں کہ پہلے قرآن اور حدیث کے رو سے مباحثہ ہو گا اور مغلوب ہو گئے تو اسی وقت بیعت کرنی ہو گی۔افسوس کہ کوئی صاحب پیر صاحب کی اس چال کو نہیں سوچتے کہ جب کہ مغلوب ہونے کی حالت میں کہ جو صرف مولوی محمد حسین کی قسم سے سمجھی جائے گی میرے لئے بیعت کرنے کا قطعی حکم ہے جس کے بعد میرا عذر نہیں سنا جائے گا تو پھر تفسیر لکھنے کے لئے کونسا موقع میرے لئے باقی رہا۔گویا مجھے تو صرف مولوی محمد حسین صاحب کے ان چند کلمات پر بیعت کرنی پڑے گی کہ جو پیر صاحب کے عقائد ہیں وہی صحیح ہیں گویا پیر صاحب آپ ہی فریق مقدمہ اور آپ ہی منصف بن گئے کیونکہ جب کہ مولوی محمد حسین صاحب کے عقائد حضرت مسیح اور مہدی کے بارے میں بالکل پیر صاحب کے مطابق ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب اور پیر صاحب گویا ایک ہی شخص ہیں دو نہیں ہیں تو پھر فیصلہ کیا ہوا۔انہی مشکلات اور ان ہی وجوہ پر تو میں نے بحث سے کنارہ کر کے یہی طریق فیصلہ نکالا تھا جو اس طرح پر ٹال دیا گیا۔بہر حال اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے گلی کوچے میں پیر صاحب کے مرید اور ہم مشرب شہرت دے رہے ہیں کہ پیر صاحب تو بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے لاہور میں پہنچ گئے تھے مگر مرزا بھاگ گیا اور نہیں آیا۔اس لئے پھر عام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ تمام باتیں خلاف واقعہ ہیں بلکہ خود پیر صاحب بھاگ گئے ہیں اور بالمقابل تفسیر لکھنا منظور نہیں کیا اور نہ ان میں یہ مادہ اور نہ خدا کی طرف سے تائید ہے اور میں بہر حال لاہور پہنچ جاتا مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر کے ساتھ ہیں اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمبینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوشوں سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔ان لوگوں کا جوش اس قدر بڑھ گیا ہے