واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page vi of 142

واقعات صحیحہ — Page vi

iv کے اندر سورہ فاتحہ کی تفسیر اعجاز المسیح عربی میں تصنیف فرما کر دنیا کے سامنے پیش فرما دی جو آج بھی ایک زندہ معجزہ ہے۔جبکہ پیر صاحب تا دم واپسیں اس کا کوئی جواب پیش نہ کر سکے اور حضرت مرزا صاحب کی یہ بات پوری ہوئی کہ کوئی بھی اس کا جواب نہ لکھ سکے گا۔عقل محو حیرت ہے کہ پیر صاحب کے حواری ان کے قلم کے از خود چلنے کے قصے کیسے بیان کرتے ہیں۔کوئی ایسا طلسماتی قلم تھا بھی تو وہ کہاں اور کس عجائب خانے میں محفوظ ہے؟ اور اگر قلم نہیں تو جو تفسیر اس نے لکھی اس کا ہی کوئی نمونہ دکھا دیا جائے۔مگر جواب میں سوائے لاف و گزاف کے سوا کچھ نہیں۔اگر پیر صاحب واقعی مرد میدان ہوتے تو جس طرح تین بار باصرار اس دعوت مقابلہ تفسیر نویسی جماعت احمدیہ کی طرف سے ان پر اتمام حجت کیا گیا وہ انہیں میدان میں نکالنے کے لئے کافی ہونا تھا۔مگر انہوں نے تو ایک ہی رٹ لگائے رکھی کہ پہلے میرے ساتھ مباحثہ کریں۔اس کے بعد بیعت تو بہ کریں اور پھر مقابلہ تفسیر نویسی ہو۔دوسرے لفظوں میں انہوں نے اس مقابلہ میں اپنی شکست تسلیم کر لی۔اس سارے روحانی وعلمی مقابلہ کی دلچسپ روداد جماعت کے نامور قلم کار حضرت مولانا مفتی محمد صادق صاحب نے واقعات صحیحہ کے نام سے اس زمانہ میں شائع کر دی تھی تا کہ سند رہے اور ان تاریخی حقائق کو آج تک کوئی چیلنج نہیں کر سکا اور بلاشبہ یہ واقعات لائق عبرت ہیں۔اس کتاب میں اس زمانہ کے دیگر نامور علماء حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب ، حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور مولانا محمد احسن امروہی صاحب کے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس تاریخی علمی دنگل میں شرکت کا حال بھی مرقوم ہے جو احباب کے لئے باعث دلچپسی ہوگا۔ان تاریخی عبرت آموز واقعات کا اگر کوئی عنوان دیا جا سکتا ہے تو وہ