واقعات صحیحہ — Page 23
۲۳ بجواب اُس کے نیاز مند کی معروضات عدیدہ کو حضرات حاضرین خیال فرما کر اپنی رائے ظاہر فرماویں گے۔مجھ کو شہادت و رائے تینوں علمائے کرام مجوزہ مرزا صاحب ( یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی و مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی و مولوی عبداللہ صاحب ٹونکی پروفیسر لاہوری) کے قبول کرنے میں کچھ عذر نہ ہوگا۔بعد ظہور اس کے کہ مرزا صاحب اپنے دعوی کو بپایہ ثبوت نہیں پہنچا سکے۔مرزا صاحب کو بیعت تو بہ کرنی ہوگی۔بعد اس کے عقاید معدودہ مرزا صاحب ہیں جن میں جناب ساری امت مرحومہ سے منفرد ہیں۔بحث تقریری و اظہار رائے ہو کر مرزا صاحب کو اجازت مقابلہ تحریری کی دی جاوے گی۔یہ وہ شرط ہے کہ دعویٰ جناب اور تحقیق حق کے لئے عند العقلا مقتضے بالطبع ہے۔ظاہر ہے کہ تیز نویسی اور قافیہ نجی کو بعد بطلان مضامین کے کچھ بھی وقعت اور عظمت نہیں۔حقیقت مضامین کا محفوظ رہنا عیاران صداقت کے لئے نہایت مہتم بالشان ہے۔اظہار حقیقت بغیر اس طریق کے متصور ہی نہیں۔کیونکہ مرزا صاحب کے حقائق و معارف قرآنیہ سے تو اُن کی تصانیف بھری ہوئی ہیں اور وہی جناب کو دعویٰ کے عدم حقیقت کی وجہ سے دھبہ لگا رہے ہیں۔علماء کرام کی تحریرات اور اہل دیانت و فہم کامل کی تقریرات اس پر شاہد ہیں۔تیز نویسی چونکہ بروز عیسوی و بروز محمدی سے بالکل اجنبی و برطرف ہے لہذا اس کو موخر رکھا جاوے گا۔اس شرط کی منظوری سے مع تاریخ مقررہ کے مشرف فرما دیں۔نہایت ممنون ہو کر حاضر ہو جاؤں گا۔قانون فطرت اور کرات مرات کا تجربہ مع شہادت وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا۔( الاحزاب: 63) کے پیشنگوئی کر رہا ہے کہ آپ کو عین وقت بحث میں الہام سکوتی ہو جاوے گا آپ فرما دیں۔اس کا کیا علاج ہو گا۔اپنے اشتہار میں اس الہام ضروری الوقوع کا مستقلے نہ فرمانا صاف شہادت دے رہا ہے کہ ایسے الہامات عندیہ اور اپنے اختیاری ہیں۔ورنہ در صورت منجانب اللہ ہونے اُن کے کیونکر زیر لحاظ نہ ہوں اور مستقلے نہ کئے جاویں۔یہ بھی مانا کہ منجانب اللہ ہیں تو پھر اُن پر تعمیل واجب ہو گی۔مشائخ عظام و علمائے کرام کو تشریف آوری سے بغیر از تضیع اوقات و تکلیف عبث کیا حاصل ہو گا۔لہذا عرض کرتا ہوں کہ شرق سے غرب تک ان بزرگواروں کو آپ کیوں تکلیف محض دیتے ہیں۔فقط یہ ایک ہی نیازمند اُن کا حاضر ہو جائے گا۔بشرط معروض الصدر نا منظوری شرط مذکور یا غیر حاضری جناب کی دلیل ہو گی آپ کے کاذب ہونے پر آپ