واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 115 of 142

واقعات صحیحہ — Page 115

۱۱۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے نکلا اور جس کا مضمون صاف لفظوں میں یہی تھا کہ پیر صاحب قرآن کریم کی کسی سورت یا آیت کی تفسیر میں مجھ سے مقابلہ کر لیں۔اس لئے کہ زبانی جھگڑے بہت ہو چکے ہیں اور حضرت مامور خدا کی طرف سے مباحثات کے کرنے سے روک دیئے گئے ہیں مگر ظالم محرفوں نے کہاں سے کہاں تک نوبت پہنچائی اور اصل بات کو چھوڑ کر ایک فضول بات اور مکر اور زور اور ظلم کی حمایت کی اور سیاہ دلی اور ستمگری سے غل مچا دیا کہ مہر شاہ جیت گیا۔میں اور میرے دوست جو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے یہاں بیٹھے ہیں حیران ہو ہو جاتے اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں چلا چلا کر فریاد کرتے کہ الہی اے حکیم خدا تیری حکمتوں کے گہراؤ تک ہم کہاں پہنچ سکتے ہیں۔بات کیسی صاف ہے اور ان مولویوں اور صوفیوں اور سجادہ نشینوں کے دل کیسے پلٹ گئے ہیں یا مسخ ہو گئے ہیں۔اور ایک دفعہ ہی سب کے سب پکار اٹھے ہیں کہ مہر علی شاہ جیت گیا۔کس بات میں جیت گیا ؟ کیا کام کیا؟ کونسا معجزہ اور کرامت لوگوں کو دکھائی ؟ بس یہی کہ نالائقی اور بے بضاعتی اور تهیدستی کی ندامت کو چھپانے کیلئے سیاہ ظلم اور فریب کی چال اختیار کر کے لاہور میں آ گیا۔اگر حضرت اقدس کے کام اور کلام میں کوئی چھل اور فند ہوتا تو ہم اللہ تعالیٰ کے لئے سب سے اول اسکی مخالفت کرنے والے ہوتے اور اس چال سے واقف ہو جاتے۔عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورُ گواہ اور آگاہ ہے کہ کوئی چیز نہیں جس نے ہمیں زنجیروں سے جکڑ کر یہاں بٹھا رکھا ہے۔بجز صدق اور حق کی پیاس اور محبت کے جو ہمارے محبوب امام کے ہر قول اور ہر فعل سے عیاں ہے۔حضرت اقدس نے ہم سے جو اس وقت سو سے کم قادیان میں نہ تھے۔مسجد مبارک میں مشورہ کیا کہ آیا اس صورت میں جواب پیش آئی ہے مہر علی شاہ کے لئے لاہور جانا چاہئے۔ہم سب نے بالا تفاق اور شرح صدر سے عرض کیا کہ شرط تو عربی فصیح بلیغ میں تفسیر لکھنے کے لئے تھی وہ مہر علی شاہ نے توڑ دی۔اب اگر وہ اس شرط کو توڑ کر اور فریب کی چال اختیار کر کے لاہور آ گیا ہے تو آئے ہمیں خدا کے مقدس اور محترم انسان کی ہتک معلوم ہوتی ہے کہ اب اس کے مقابل لاہور جائے۔رہا یہ اندیشہ کہ عوام کا لا نعام شور مچائیں گے اور وہ جو حقیقت کو نہیں سمجھتے اتنے ظاہری نظارہ پر قناعت کر جائیں گے کہ لو دیکھو مہر شاہ آگئے اور مرزا صاحب نہیں آئے۔اس کی پر پیشہ جتنی بھی پرواہ نہیں اس لئے کہ یہ معمولی باتیں ہیں