واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 107 of 142

واقعات صحیحہ — Page 107

۱۰۷ مامور اور مرسل اللہ کی برسوں کی کامیاب عزت معرض امتحان میں اور ضعیف محدود بشری نگاہ کے نزدیک معرض خطر میں تھی مسودہ لکھنا۔پروف دیکھنا۔اور پوری صفائی سے چھپنا یہ سب کام ضروری تھا کہ اس تھوڑی مدت میں پورے ہوں۔میرا دل بصیرہ اور دلائل سے اسپر شاہد اور قائم ہے کہ اس وقت سے کہ آپ کی مبارک انگلیوں کو چھونے کا شرف قلم کو ملا ایسی تقیید اور تنقید کا کام کبھی آپ کے پیش نہیں آیا۔ایک بات اور ایک تکلیف آپ کو پیش نہیں آئی۔مختلف قسم کی زحمتوں کا سامنا آپ کو کرنا پڑا۔آپ کی کریم رحیم فطرت کا نبوت ریہ (على صاحبها الصلوۃ والتحیہ ) اور قرآن کریم کے اتباع سے ایک ہی رنگ پر اور مختصر پیرا یہ پر قانع نہ ہونا معانی اور نکات کے شجر ذخار کی مضطرب امواج کا آپ کی معنی آفرین جودت زا طبیعت میں موجیں مارنا۔محدود وقت کی سخت قید کا لگ جانا اور ان سب پر اور سب سے زیادہ زحمت خوفناک امراض کا پے در پے حملہ آور ہونا۔غرض یہ ایسی تحریکیں اور دباؤ تھے کہ ایک غیر مامور کو پیس کر سرمہ کر دیتے۔بسا اوقات قومی دل لوگ بھی ایسے موقعوں پر جی چھوڑ کر رہ جاتے ہیں اور جدید اور لذیذ مضامین کا پیدا کرنا تو بر کنار موجودہ علم و دانش بھی ان کے دماغ سے پرواز کر جاتی ہے۔مگر حضرت موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تائید اور اذن سے ۲۰ تاریخ کو تفسیر کی تسوید سے فراغت کر لی اور کاتب اور مطبع کا کام رہا جو انشاء اللہ تعالیٰ دو روز میں انجام کو پہنچ جائے گا۔میرا موضوع اس وقت یہ نہیں کہ تفسیر کی نسبت گفتگو کروں اور اس کے اعجاز کے پہلوؤں پر بحث کروں۔وہ انشاء اللہ ۲۵ تک حسب وعدہ شائع ہو جائے گی۔سنت اللہ کے موافق سعید ا سے معجزہ اور آیت اللہ سمجھ کر خدا کے نور کو پہچان لیں گے اور شقی اسی کنوئیں میں گریں گے جو ان کے اشباہ و امثال کے لئے موعودوں کے ہر زمانہ میں تیار ہوتا رہا ہے۔میرا مقصد اس وقت یہ ہے کہ میں اپنے ان دوستوں کو حضرت مامور کی استقامت اور اخلاص کی کیفیت کا نقشہ دکھاؤں جو قدرت کی تقدیروں سے اس نظارہ کے معائنہ سے دور پڑے ہیں۔میرا دل مجھے یقین دلاتا ہے کہ محبوب و مولیٰ اور رؤف رحیم آقا کی یہ زحمت اور تکلیف جو اس راہ میں ان پر پڑی ہے ان کے عاشق خدام کی محبت اور عشق کے لئے مہمیز کا کام دیگی اور یہ اطلاع اور شعور اور احساس ایک آگ ہوگی جو غیر کو غیر کی تعظیم و تکریم کو غیر کے کسی قسم کے جہد و ریاضت کے خیال اور یقین کو ان کے دل سے راکھ کر کے