واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 98 of 142

واقعات صحیحہ — Page 98

۹۸ الشان کام جو حضرت مرزا غلام احمد قادیانی سے ظہور میں آیا اور اس کام کے پورا کرنے کے لئے ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کو وجاہت اور عزت دیتا۔آپ کو یتیم پا کر اپنے ہاں ٹھکانا دیتا۔اور آپ کو تنگدست اور کس مپرس پا کر خود غنی کرتا اور قوم کے عشق میں سرگردان و شیفتہ پا کر کامیابی کی ساری راہیں آپ کو دکھاتا۔حق یہ تھا کہ مسلمان آپ کی خاک آستان کو آنکھوں کا سرمہ بناتے اور سب سے زیادہ زمانے کے ادا فہموں یا ادا نہی کے مدعیوں کے ذمہ تھا کہ وہ آپ کی قدر و منزلت کرتے جو ایک مہجور عاشق مدت دراز کے ہجر کے بعد معشوق کی کرتا ہے۔مگر افسوس بعض میں فریسیت کی روح جوش زن تھی اور بعض میں صدوقیت کا خمیر ملا یا گیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ آنے والے مقدس مسیح کا انکار کیا جاتا تا کہ وہ باتیں پوری ہوں جو مخبر صادق صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں کہ تم یہود کی راہوں پر چلنے لگ جاؤ گے یہاں تک کہ اگر کوئی یہود سوسمار کی سوراخ میں گھسے گا تو تم بھی وہیں گھس جاؤ گے۔سو آج مسلمانی کے رعبوں نے وہ تمام اعتراض مسیح موعود پر کر کے جو حضرت مسیح اسرائیلی پر کئے گئے تھے اور اُسی طرح اُس کی تذلیل اور تضحیک اور تکفیر کر کے جو اُس پہلے برگزیدہ کی گئی اور حکام وقت کی عدالتوں میں اُسی طرح پہنچا کر جس طرح وہ خدا کا عاجز بندہ پیلاطوس کی عدالت میں کھینچا گیا تھا اپنے ہاتھوں سے ثابت کر دیا کہ وہ اُس خوفناک پیش گوئی کے مصداق بن گئے ہیں جو مخبر صادق صلے اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلی تھی۔کاش یہ لوگ سورہ فاتحہ کی آخری آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَاَلَا لُصَّالِین میں غور کرتے جو ان پر ہر نماز میں پڑھنی فرض کی گئی ہے امام ہوں یا ماموم ہوں۔یہود و نصاریٰ کی راہوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کے نزدیک مقدر نہ تھا کہ آئندہ ایک وقت نصاری کا فتنہ بر پا ہو گا اور ان کی جہت سے اسلام پر خطر ناک حملے ہوں گے پھر ایسے وقت میں مسیح موعود اندرونی اور بیرونی اصلاح کے لئے آئے گا اور قوم اُس سے ویسا ہی سلوک کرے گی جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے کر کے مورد غضب الہی ہوئی۔غرض اگر خدا تعالیٰ کو منظور نہ تھا کہ مسلمانوں کو ایسے وقتوں میں یہود کی چال اور نصاری کے فتنوں سے ڈرائے تو پاک کتاب اور مقدس دُعا میں یہ آیتیں کس حکمت سے رکھ دیں۔سوچو اور غور کرو اور اپنے ہاتھ سے اپنے مخالف شہادت پر مہر نہ لگاؤ۔