واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 97 of 142

واقعات صحیحہ — Page 97

۹۷ وَ اِنْ يَّكُ صَادِقاً يُصِبُكُمُ بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ إِنَّ لِلَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُو مُشرق كَذَّابٌ۔(المؤمن : 29) اس بنا پر قرآن کریم کا لفظ لفظ پیشگوئیوں سے بھرا ہوا ہے اور ایک جلال اور قہاریت کی روح اپنے اندر رکھتا اور تاریکی کی روح پر رُعب اور لذت معاً ایک ہی وقت میں نازل کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کو از بسکہ علم تھا کہ محور زمانہ کے بعد انسانی طبیعتوں پر غفلت مستولی ہو جاتی اور اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ پھر اُسی رنگ کے زندہ نمونے اُن کی تذکیر کے باعث ہوں اور پاک باتوں کو اس الزام سے بچالیں کہ وہ اساطیر الاولین ہیں اُس نے بموجب وعده إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: 10) - قرآن کریم میں یہ برکت اور تاثیر رکھ دی کہ اُس کی اتباع سے ہمیشہ اور ہر زمانے میں قرآن کریم کے دعاوی اور دلائل اور برکات کو زندہ کرتے ہیں اور اُن ساری باتوں کے نمونے ہمیشہ دنیا میں موجود ہیں جو قرآن کریم میں از قبیل وحی مکاشفہ اور رویا بیان کی گئی ہیں۔اس ہمارے زمانہ میں جس کے اندر خدا تعالیٰ کی کتابوں اور باتوں پر سب زمانوں سے زیادہ ہنسی کی گئی اور رسولوں اور وحی اور مکاشفات اور رؤیا کی سخت تو ہین اور تذلیل اور تضحیک کی گئی اور جب کہ بعض نادان دوستوں نے اسلام کی حمایت میں کھڑے ہو کر اعتراف کیا کہ در حقیقت اسلام بھی ایک مردہ مذہب ہے اور اُس میں اقتداری نشان دکھانے اور وحی اور مکاشفہ کے کوئی زندہ نمونے موجود نہیں اور جبکہ مایہ ناز باتوں کے انکار کو فخر اور ناز کا ذریعہ سمجھا گیا اور جب کہ استجابت دعا کے انکار سے صاف دکھایا گیا کہ اسلام میں بھی کوئی نہیں جو خدا تعالیٰ کے دربار میں شرف باریابی رکھتا ہو۔غرض اس زمانہ میں جب کہ مسلمانوں کے خیر خواہوں نے یورپ کے آزاد مشربوں سے نیچے اُتر کر اور پگڑی اتار کر صلح کر لی اور اسلام اور قرآن کی عزت خاک میں ملا دی اور ایک بولنے والا مولوی بٹالوی کی شکل میں جلسہ مذاہب کے اندر بول اُٹھا کہ اس وقت مسلمانوں میں کوئی نہیں جو نشان الہی دکھا سکے۔اور یوں اُس نے اسلام کا جنازہ اُسی قطار میں رکھ دیا جہاں دوسرے مذاہب باطلہ کی نعشیں دھری تھیں۔تب خدا تعالیٰ کی غیرت نے اپنے وعدہ کے موافق مرزا غلام احمد قادیانی میں اُتار دھارا اور آپ کے ہاتھ پر اور آپ کے منہ میں وہ باتیں ڈال کر اور اقتداری نشان ظاہر کر کر اپنی ہستی۔کل انبیاء کے وجود کو۔پاک کتابوں کو اور جملہ لوازم نبوت کو از سرِ نو زندہ کر دکھایا ہے۔عظیم