واقعات صحیحہ — Page 112
۱۱۲ ہوں اور برسوں سے دیکھتا ہوں کہ ہر رنگ میں ہرفن میں اور ہر حال میں امیت آپ پر غالب ہے۔آپ کے قلب کی بناوٹ ایسی بنائی گئی ہے اور آپ کے پیش نہاد مقاصد اور مطالح ایسے رکھے گئے ہیں کہ اس لازوال ذوالجلال قبلہ کے سوا اور طرف رخ توجہ پھیر ہی نہیں سکتے۔کبھی ایک ادیب کی طرح کسی ادب کی کتاب کا مطالعہ ہو۔کسی فن کی کتاب میں انہماک و استغراق ہو۔یہ موقع کبھی آپ کے پیش آیا ہی نہیں۔عربی میں تصانیف کے اختیار کرنے کا محرک خود میں ہی ہوا۔میری ہی روح میں خدا تعالیٰ نے پہلے یہ جوش ڈالا کہ یہ آسمانی نعمت عربی کے ظروف میں عربوں کے آگے بھی پیش کی جاوے۔اس تحریک پر سہ سے پہلے آپ نے تبلیغ لکھی جو آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ شامل ہے۔اس کیفیت کو میرا ہی دل خوب جانتا ہے۔جو اس پس و پیش اور تحیر کے نقشہ سے میں نے سمجھی جو میری اس درخواست پر آپ پر طاری ہوا۔کسی معصوم اور بے بناوٹ سادگی اور صفائی سے آپ نے فرمایا کہ بات تو بہت اچھی ہے مگر یہ کام بڑا نازک ہے۔میری بساط اور استعداد سے باہر ہے۔پھر کچھ سوچ کر فرمایا اچھا میں پہلے اردو میں مسودہ طیار کرونگا پھر میں اور آپ ( یہ عاجز راقم ) اور مولوی صاحب (مولوی نور الدین صاحب ) مل ملا کر اس کا ترجمہ عربی میں کر لیں گے۔تحریک تو ہو ہی چکی تھی رات کو قادر حکیم عزاسمہ کی طرف سے اس بارہ میں وحی ہوئی کہ عربی میں لکھیں اور معایہ بھی آپ کو تسلی دی گئی کہ عربی زبان کے بہت سے حصے پر آپ کو قبضہ مرحمت کیا گیا اور لکھنے کے وقت خود روح پاک آپکی زبان اور قلم پر لغات عربی کو جاری کر دے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔سب سے پہلے کتاب تبلیغ جس کی تالیف کے سارے زمانہ میں میں ساتھ رہا اور مجھے اس کے فارسی میں ترجمہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ایسی فصیح بلیغ نکلی کہ ایک فاضل ادیب عرب نے اسے پڑھ کر حضرت موعود کو لکھا کہ تبلیغ کو پڑھ کر میرے دل میں آیا کہ سر کے بل رقص کرتا ہوا قادیاں تک آؤں۔مولوی محمد حسین بٹالوی اور اس کے مثیلوں نے اس سے پہلے بہت شور مچا رکھا تھا کہ وہ (حضرت موعود علیہ السلام) عربی کا ایک صیغہ نہیں جانتے اور صرف و نحو اور فلاں فلاں علم سے قطعاً واقف نہیں۔اور فتویٰ تکفیر سے تھوڑی دیر قبل سیالکوٹ میں ہماری مسجد کے اندر جناب حکیم حسام الدین صاحب کے مقابل تکرار کرتے ہوئے غیظ وغضب میں بھر کر یہ کہا کہ