شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 12
۱۲ میں نے اس سے سائی کا روپیہ مانگا کہ روپیہ دید و اس نے روپیہ دینے سے انکار کیا اس اثناء میں تحصیل دار آ گیا میں نے تحصیلدار سے کہا کہ یا تو ٹمٹم والے کو میرے ساتھ کر دو کہ آپ سے پہلے میں نے ٹم کروانیہ پر لی ہوئی تھی اور یا سائی کا روپیہ واپس کرا دیں اس نے کہا نہیں سرکاری کام کرنا ضروری ہے میں آدمی نہیں دے سکتا میں نے کہا کہ میں بھی تو سرکاری آدمی ہوں آخر کچھ جھگڑنے کے بعد روپیہ واپس کر دیا۔چونکہ جھگڑنے میں مجھے بہت دیر لگ گئی تھی اس لئے ہمارے ساتھیوں نے تنگ آکر شہید مرحوم سے عرض کیا کہ منم والا بھی نہ آیا اور ہمار آدمی بھی نہ لوٹا وہی واپس آجا تا تو ہم چلنے والے بنتے۔روپیہ تو ملے گا نہیں اور نہ ہی ٹمٹم والا آئے گا۔شہید مرحوم نے فرمایا کہ نہیں میں نے ایسا آدمی پیچھے بھیجا ہے کہ یا تو ٹمٹم والے کو لے آئیگا اور یا روپیہ واپس لائے گا۔اور وہ ایسا آدمی ہے کہ اگر اسے پہاڑ کے سامنے کھڑا کر دیں تو ضرور ہے کہ پہاڑ کو پھاڑ کر دوسری طرف نکل جائے۔اتنے میں میں آکر حاضر ہو گیا تو شہید مرحوم فرمانے لگے کہ دیکھا جو میں نے کہا تھا کہ یہ بڑاز بر دست آدمی ہے سوالیسا ہی نکلا۔ریل گاڑی میں جب ہم کو ہاٹ کی طرف آرہے تھے تو شہید مرحوم فرمانے لگے کہ میرا مقابلہ ریل کے ساتھ ہے ریل کہتی ہے کہ میں تیز رفتار ہوں میں کہتا ہوں کہ میری رفتار پڑھنے میں تیز ہے۔آپ کا یہ فرمانا تھا کہ ریل کی رفتار کم ہوگئی اور آہستہ آہستہ چلنے لگی۔گارڈ نے بہت کوشش کی وقت بھی تنگ تھا لیکن گاڑی آخر کار کھڑی ہو گئی۔تمام لوگ اتر پڑے اور شور برپا ہو گیا کہ گدھا کھڑا ہو گیا گدھا کھڑا ہو گیا۔خیر صبح ہوتے ہوئے بتوں کو جانے کیلئے اور ٹمٹم کرائی ٹیم میں بھی آپ قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہے جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو نماز اتر کر پڑھی اس اثناء میں بہت سخت بارش ہوئی لیکن شہید مرحوم نے بارش کی کوئی پروانہ کی اپنے مزہ سے خوب ہمیں نماز پڑھائی۔ایک جگہ حرم نام راستہ میں آئی رات کو سرائے کے آدمی سے بکری منگا کر ذبح کی اور پکا