شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 8
بیعت لی گئی۔شہید مرحوم کئی ماہ یہاں ٹھہرے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جب ہم سیر کو جایا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر سے واپس آکر گھر میں داخل ہوتے تو شہید مرحوم اپنے کپڑے گردو غبار سے صاف نہیں کرتے تھے جب تک ذرا ٹھہر نہ جائیں اور اندازہ نہ لگالیں کہ اب حضرت مسیح موعود علیہ والسلام نے اپنے کپڑے جھاڑ لئے ہوں گے اور کہا کرتے کہ یہ محمد علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جو کہ مرزا صاحب کے وجود میں آئے ہیں انکے اور محمد علیہ الصلوۃ والسلام میں کوئی فرق نہیں ہے جو کوئی فرق کرتا ہے اس نے انکو بالکل نہیں جانا اور نہ پہچانا ہے۔شہید مرحوم کو الہام اور بکثرت صحیح کشف بھی ہوتے تھے۔ایک روز مہمان خانہ میں سوئے ہوئے تھے کہ یک لخت اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ مجھ پر محمد علی اللہ چادر کی مانند بچھائے گئے اور ایسے اندر گھسے کہ بالکل جدا نہیں ہو سکتے تھے اور یہ الہام ہوا کہ جسْمُهُ مُنَوَّرٌ مُعَمَّرٌ مُعَطَّرٌ يُضْنِى كَالْكُولُوءِ الْمَكْنُونِ نُورٌ عَلَى نُورِ۔اور یہ بھی کہا کہ یہ نور ہمارے اختیار میں ہے۔چنانچہ ایک روز مولوی عبدالستار صاحب کو کہا کہ میرے چہرہ کی طرف دیکھو اور جھک گئے۔مولوی صاحب دیکھنے لگے تو نہ دیکھ سکے آنکھیں نیچی ہو گئیں۔پھر جب شہید مرحوم سیدھے ہو گئے تو مولوی صاحب نے دیکھا اور سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھنا شروع کیا۔وزیریوں کے مولوی صاحب نے کہا کہ تم نے کیا دیکھا ہے مولوی صاحب ہنسے اور کہا کہ بہت کچھ دیکھا ہے اور یہ بھی کہا کہ جب میں نے آپ کے چہرہ کی طرف دیکھا تو انکے چہرہ کی چمک نے جو کہ سورج کی مانند تھی میری نظر کو چوندھیا دیا اور نیچے کر دیا پھر جب انہوں نے سر اٹھایا تو میں دیکھنے کے قابل ہوا اور دیکھا۔شہید مرحوم نے وزیریوں کے مولوی صاحب کو کہا کہ تم میں تقوی کم ہے اسلئے تم نے نہیں دیکھا۔شہید مرحوم پر عجیب و غریب احوال ظاہر ہوتے تھے۔ایک روز بہشتی مقبرہ کی طرف جاتے ہوئے ساتھیوں کو فرمایا کہ تم رہ گئے ہو میرے ساتھ ملنے کی کوشش کرو۔میرے حالات اب اتنے باریک ہو گئے ہیں کہ بیان کرنا مشکل ہے رسول اللہ کے برکات و