شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 42 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 42

۴۲ شاگردوں سے مولوی کی غلط بیانیوں کا ذکر کرتے رہے۔جب شہر پشاور پہنچے تو رات کو خواب میں آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ تو مبتدع میں انکو آپ نے یونہی کیوں چھوڑ دیا ہے۔صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ صبح میں اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر واپس مولوی صاحب کے پاس اس غرض سے روانہ ہو گیا کہ اس دفعہ فیصلہ کر آؤں۔فرمانے لگے وہ تو ملا نہیں ان کے ایک منتظم لنگر والہ کو میں نے تبھیجیں جو کہ مجھے دی گئی تھیں واپس کر دیں اور کہا کہ یہ تبیجیں مولوی صاحب کو جب آئیں دے دینا اور کہنا کہ میں تمھارے عقیدوں اور تمہاری تسبیحوں سے بیزار ہوں۔یہ کہہ کر آپ اپنے گھر واپس چلے آئے اور راستہ میں لوگوں سے ان کی برائیاں بیان کرتے رہے۔اور بعض جو لوگ ملتے یہی کہتے تھے کہ آپ کی بات تو بالکل درست ہے لیکن ان سے ایسا جھگڑا کرنا بہت بڑی دشمنی ہے کیونکہ یہ لوگ ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔آپ جب گھر پہنچے تو اپنے طالب علموں کو قریبا ایک سو میں مسئلے لکھ کر دے دیئے اور کہہ دیا کہ یہ فلاں فلاں قوم کے لوگوں کو دے دو اور اس کا جواب لو۔اگر غلط بیان اور جھوٹے فتوے لگائیں گے تو تم گواہ رہنا انکو بذریعہ عدالت گرفتار کرائیں گے۔اور یہ لوگ صاحبزادہ صاحب کے شاگردوں کو بہت ستاتے تھے۔آپ کے شاگرد جب لوگوں کے پاس گئے بعضوں نے تو چالاکی سے ان مسئلوں سے انکار کیا اور بعضوں نے تصدیق کی کہ ہمارے پیر کا یہی مسئلہ ہے۔صاحبزادہ صاحب نے یہ سوالات لکھے تھے۔کہ کیا نسوار حرام ہے۔کیا سر کے بال رکھنا حرام ہیں۔کیا نماز میں شہادت انگلی سے اشارہ کرنا حرام ہے۔اور کیا جس زمین میں نسوار کا درخت بویا گیا ہو ا سکا حاصل کچھ برس تک حرام ہے۔کیا تمہارے مولوی منظر کی کے یہ فتوے نہیں وغیرہ وغیرہ۔