شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 21 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 21

۲۱ منظور ہے یا نہیں تب میں نے خواب میں دیکھا کہ صاحبزادہ صاحب مرحوم ایک کوٹھڑی میں پڑے ہیں دروازہ کھولا اور مجھے اجازت دی کہ آجاؤ۔میں پاس جا کر پیر دبانے لگا اور دیکھا کہ بہت نازک حالت میں زخمی ہو گئے ہیں جب نیند سے اٹھا تو میں نے معلوم کیا کہ آپ راضی ہیں۔پھر میں نے خیال کیا کہ انکو کس طرح نکالوں۔آخر میں پلٹن میں ایک آدمی کو جو کہ صاحب زادہ صاحب شہید مرحوم کا دوست تھا ملا اور یہ حوالدار تھا میں نے اپنی آمد کا ذکر کیا اور اپنا منشاء شہید مرحوم کی نسبت ظاہر کیا۔یہ بات سن کر وہ رو پڑا اور کہا کہ میں نے بھی بہت دفعہ ارادہ کیا تھا لیکن مجھ میں طاقت نہیں تھی اب آپ آئے ہیں اب ضرور انشاء اللہ میں اس کام میں مدد دوں گا۔پھر میں نے اس سے کہا کہ آپ کچھ لوگ جتنے بھی مل سکیں رات کے بارہ بجے تک وہاں بھیجواد ہیں۔کفن تابوت خوشبو وغیرہ سامان لے کر میں آتا ہوں۔پھر میں ایک مزدور سے تابوت وغیرہ سامان اٹھوا کر اس جگہ کے پاس ایک قبرستان تھا لے گیا۔اس اثناء میں کہ میں کابل گیا ہوں خدا کی قدرت بہت سخت ہیضہ کی بیماری پڑی ہوئی تھی اور اتنی میتیں اٹھی تھیں کہ کسی کو کسی کی کچھ سوجھتی نہ تھی۔میں جب وہاں گیا تو میت پر میت آتی تھی اور لوگ دفن کرتے تھے لیکن مجھے کسی نے نہ پوچھا اپنی افراتفری میں لگے ہوئے تھے کسی کو خیال بھی نہ ہوا کہ تم یہاں کیسے آئے ہو اور اس تابوت میں کچھ ہے کہ نہیں۔خیر آدھی رات کے قریب میں نے دیکھا کہ وہ آدمی معلوم نہیں ہوا تب میں نے ارادہ کیا کہ خود ہی نکالوں خواہ کچھ ہی ہو۔تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ شخص بمعہ کچھ اور لوگوں کے آپہنچا اور میں بھی تابوت لے کر ہند و سوزاں پہنچا اول جب صاحبزادہ صاحب شہید کئے گئے تو اس جگہ پر تین روز تک پہرہ رہا بعد اسکے وہاں ایک میگزین ہے اسکے سپرد کیا کہ شہید مرحوم کو کوئی نکال کر نہ لے جائے احتیاط کے لئے ہم نے ایک آدمی کو پہرہ کے لئے مقرر کیا اور ہم باقیوں نے پتھر ہٹا کر صاف میدان کر دیا جب وہ ظاہر نظر آنے لگے تو اُن سے ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی خوشبو آئی کہ ہماری خوشبو سے بدرجہا بہتر تھی۔اس آدمی کے ساتھ کے آدمی