شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 54
۵۴ بلا ہو جنات نے عرض کیا کہ ہم بلا اور شیاطین نہیں ہیں ہم جن ہیں اور احمدی ہیں آپ کی خدمت کے لئے آئے ہیں اور ہم ستر افسر ہیں اور ہر ایک کے ساتھ بڑا بھاری شکر ہے۔صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ ہاں میں نے سمجھ لیا ہے۔ایک منزل ہے جو بہت مدت میں طے ہوتی ہے میرا جی چاہتا ہے کہ میں بہت جلد یہ منزل طے کروں اور اپنے پیارے سے جاملوں۔شیخان لوگ اپنے مرشد کو عالم الغیب مانتے تھے۔اور صاحبزادہ صاحب فرماتے کہ انسان کو خواہ وہ کسی درجہ پر ہو عالم الغیب جاننا سراسر غلطی ہے عالم الغیب خدا ہے اور کوئی نہیں یہ رسول کریم ﷺ سے زیادہ کون ہے انکو بھی خدا یہ حکم دیتا ہے قل رب زدنی علماً وہ بھی کوئی بات بیان فرماتے تو وحی کے ذریعہ سے فرماتے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اولوالعزم رسول حضر سے علم سیکھنے کے لئے گئے۔غیب کی باتیں معلوم نہیں ہوسکتیں خدا ہی ہر ایک چیز کا علم رکھنے والا اور غیب واں ہے۔شیخان کہتے کہ ہمارے پیر غوث تھے۔سات آسمان پر سات دریا ہیں ان میں ریت اور کنکر ہیں ان سب کی تعداد بھی معلوم ہے صاحبزادہ صاحب فرماتے کہ یہ اہل کشف کی باتیں ہیں اہل کشف تو کہتے ہیں کہ غوطے ہر زمانہ میں ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں۔جو مانتے ہیں ان کا قول ہے کہ عارفہ اور بزرگ ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اور بزرگ متقی ہوتے ہیں شریعت کے پابند اور معرفت الہی رکھتے ہیں اور تم جو کہتے ہو کہ اکثر ہمارے پیر سے ایسا واقعہ ہوا ہے کہ چاندنی راتوں میں کو پھٹنے سے پہلے صبح کی نماز ادا کی اور معلوم ہونے پر نماز وقت پود ہوائی۔استانی اسورج نظریہ آیا اور نماز میں غلطی ہوگئی وہ چیز جو سات آسمان کے اوپر ہے اور دریاؤں کی نہ نہیں ہے اسکی گنتی کیونکر نظر آوے۔شیخان جواب دیتے کہ وہ اپنے آپ کو چھپاتے تھے۔صاحبزادہ صاحب فرماتے کہ جو قصد آنماز کو وقت سے پہلے پڑھے اس نے نماز کی جنگ کی اور یہ کفر ہے سو تم غوث کیا اس پر خود ہی کفر کا فتویٰ لگاتے ہو۔