شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 50
کو تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بیٹھے دیکھا جسوقت میری نظر آپ پر پڑی تو ایک بہت چمکدار شعلہ آپ کے چہرہ سے نکل پڑا اور میں نے آپ سے ملاقات کی۔فرمایا کہ دوسری دفعہ جب میں ہندوستان کی طرف نکلا تو میں لکھنو میں ایک مسجد میں اتر پڑا۔یہاں لوگ چڑھاوا چڑھایا کرتے تھے۔میں چڑھاوے سے کوئی غرض نہیں رکھتا تھا اور نہ کسی چیز کو ہاتھ لگا تا تھا۔مسجد کے مہتم کی میرے ساتھ محبت ہوگئی۔اور بڑے اصرار سے ایک دن اس نے میری دعوت کی۔اور جمعہ کی نماز کے بعد جس وقت میں وعظ کے لئے بیٹھا تو مجھ پر قرآن شریف کے بہت سے اسرار ظاہر ہوئے اور میں نے کھول کر بیان کیئے۔میرے وعظ کا اتنا اثر ہوا کہ بہت سے لوگ روتے تھے لیکن ایک فقیر تھا اسکو کچھ پروا نہیں ہوئی اور نہ اس کے چہرہ پر اثر پیدا ہوا۔میں نے اس فقیر سے کچھ باتیں کیں اور یہ حالت بیان کی۔فقیر نے جواب دیا کہ ہاں کسی فقیر نے توجہ ڈالی ہوگی۔تب میرے خیال میں خیال ہوا کہ یہی فقیر ہے اس نے توجہ کی ہوگی۔اور میں نے بیعت کی آرزو ظاہر کی لیکن فقیر نے جواب دیا کہ اب نہیں پھر میں یہاں حاضر ہو جاؤں گا اور تیرے ساتھ میرا وعدہ ہے۔فقیر جب باہر نکلا تو آپ بھی پیچھے چل پڑے لیکن اس کے بہت سے وعدے کرنے سے میں واپس لوٹ آیا۔کچھ دن کے بعد وہ فقیر دوبارہ آیا۔فقیر نقشبندی طریقہ کا تھا اور اور بہت سے طریقوں کی اُسکو اجازت تھی۔جب میں نے فقیر کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس نے کہا کہ مجھے ہر طریقہ کی اجازت دی ہوئی ہے لیکن نقشبندی میں بیعت لیتا ہوں۔اس کے بعد کچھ دنوں کے لئے فقیر چلا گیا اور آپ پر بہت سے اسرار کھلے۔چند روز کے بعد تیسری بار وہ فقیر آیا۔کچھ باتیں ہوئیں تو فقیر نے کہا آپ نے تو بہت ترقی کی کہ میں بالکل آپ کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔فقیر نے صاحبزادہ صاحب سے ٹوپی جو ان کے سر پر تھی تبرک کے طور سے لے لی اور اپنے پاس سے بھی کوئی کوئی چیز تبرک کے لئے دیدی اور بیعت لینے کی خلیفہ کر کے اجازت دے دی۔فقیر نے آپ سے یہ بھی کہا کہ ایسالائق آدمی میں نے نہیں دیکھا۔اور کہا کہ میں مولوی