شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 36 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 36

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک موقعہ پر ایک تنگ درہ پر گورنر کی فوج اتری ہوئی تھی۔ایک روز جدران قوم نے بہت بڑی تعداد میں اکٹھی ہو کر گورنرکو معہ اس کی فوج کے گھیر لیا۔جہاں بھی روشنی دیکھتے۔فائر کر کے کچھ نہ کچھ زخمی کر دیتے۔یہاں تک نوبت پہنچی کہ تمام روشنی بجھا دی گئی گورنر حیران اور پریشان ہو گیا کہ اب کیا کیا جاوے۔اور جدران قوم لوٹنے کو تیار تھی۔اردگرد آگئی۔صاحبزدہ صاحب نے فوراً ارد گرد تو ہیں لگوادیں اور فائر کرنے کا حکم دید یا۔جدران قوم ایسی بدحواس ہوئی کہ چھپنے کوجگہ نظر نہ آئی آخر اس قوم نے بھاگنے کا راستہ لیا اور گورنر کی فوج صحیح و سلامت رہ گئی۔گھیر نے پر ہی جو نقصان ہوا سو ہوا۔یہ خبر سنگر امیر عبدالرحمن خان کو بہت خوشی ہوئی کہ وہ قو میں جو کبھی بھی رعایا بنکر نہ رہتی تھیں گورنر نے صاحبزادہ صاحب کی مدد سے انکو فتح کیا اور۔سو آپ کو بہت سا انعام دیا گیا۔اس اثناء میں امیر کابل نے انگریزوں کے ساتھ ملک تقسیم کرنے کا گورنرخوست کو حکم دیا۔نقشہ پہلے ہی تیا رتھا۔جب صاحبزادہ صاحب نے دیکھا کہ نقشہ میں امیر عبدالرحمن خان کی رعایا کا قریباً کئی سومیل کا حصہ انگریزوں کے قبضہ میں آیا ہوا ہے۔انھوں نے اس نقشہ پر زمین کو تقسیم کرنے سے انکار کیا۔ایک نیا نقشہ تیار کرنے کا وعدہ انگریزوں سے لے لیا جس میں وہ زمین امیر کابل کے قبضہ میں کردی چونکہ گورنر میں غصہ بہت تھا اور صاحبزادہ صاحب نرم آدمی تھے اسلئے صاحبزادہ صاحب اکیلے ہی سرحد کی تقسیم پر جایا کرتے تھے جب تقسیم ختم ہوگئی تو گورنر نے کہا کہ جب تک ہمیں نیا نقشہ نہیں ملے گا ہم اس زمین کے قابض نہیں ہو سکتے۔کیونکہ پھر پرانے نقشہ پر جھگڑا ہوگا۔اس لئے صاحب زادہ معہ کچھ سواروں کے کرم پاڑہ چنار انگریز افسر کے پاس آئے اپنے آپ کی بہت عزت کی اور نیا نقشہ تیار کرا کر دیدیا۔اس زمین کی تقسیم میں ایک شخص آیا اور صاحب زادہ صاحب سے عرض کی کہ میں نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔لیکن اس کتاب کا مجھے پتا نہیں چلتا ایک آدمی نے مسیح زمان اور نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے آپ اس کتاب کو پڑھ کر دیکھیں۔میں نے اس کا کچھ رد لکھا ہے آپ