شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 33 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 33

بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيم تَحْمَدَهُ وَنُصَلّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم حصہ دوم شہید مرحوم اس دوسرے حصہ میں وہ حالات درج ہیں جو کہ مولوی عبدالستار صاحب مہاجر قادیان نے حضرت صاحبزادہ صاحب رضی اللہ عنہ سے سنے ہیں یا اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور یہ الفاظ نقل با معنی ہے اور اکثر واقعات چھوڑے گئے ہیں کہ کتاب طول نہ پکڑے۔ضروری ضروری باتیں درج کی جاتی ہیں۔فرماتے ہیں کہ میرے باپ دادا اچھے عالم تھے اور لوگوں کو کتابوں کا سبق پڑھایا کرتے تھے۔ان لوگوں میں سے دو قسم کے لوگ تھے۔ایک وہ جو طالب علمی کی حالت میں تھے دوسرے وہ جو اچھے مولوی پڑھے لکھے تھے اور وہ شیخان کہلاتے ہیں۔میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ لوگ اچھے سفید کپڑے پہنے ہوئے کچھ نہ کچھ حیثیت رکھتے ہونگے۔مجھے بھی طلب علم کا شوق ہوا۔تب میں نے تعلیم پانے کے لئے باہر جانے کو کمر باندھی اور میں ان لوگوں کے ساتھ ہو گیا کہ جن کا لگاؤ قادری سلسلہ سے تھا۔آخر میں نے ایک مولوی صاحب کی شاگردی اختیار کی۔اس نے صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی ایسی تعریف میرے آگے بیان کی کہ مجھے ملنے کا شوق ہوا اور میں ان کے ملنے کے لئے چل پڑا۔ابھی انکے پاس پہنچا نہیں تھا کہ ملمتون ایک مقام ہے وہاں کے ایک مولوی کا شاگرد بن گیا صاحبزادہ صاحب مرحوم کے پاس بہت لوگ تعلیم کے لئے آتے تھے اور ہر وقت خدا کا کلام اور حدیث کا بیان ہوا کرتا تھا۔آپ بہت مہمان نواز تھے خواہ امیر ہو خواہ غریب۔میں بھی