شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 28
٢٨ تم بھی مان لو گے اگر نہیں تو رہ جاؤ گے چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد اس نے بھی مان لیا۔میں کبھی اکیلا ہوا کرتا تھا تو میں یہ شعر پڑھا کرتا تھا۔چشم سوزم در فراقت یا محمد مصطفیٰ کے بہ بینم من جمالت یا محمد مصطفی ایک رات خواب میں میں نے دیکھا کہ میں آنحضرت علی اللہ کے پیش ہوا اور میں نے پہچان لیا میں نے پوچھا کہ میرے والد کہاں ہیں انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہا ابھی اس طرف گئے ہیں اور فرمایا درود بہت پڑھا کرو۔پھر ایک دفعہ میں نے رسول اللہ ے کا جنازہ پڑھا اور آپ کی قبر مبارک پر جھنڈ الگا دیا۔پھر ایک دفعہ میں رسول کریم لے کو مٹھیاں بھرتے بھرتے گلے ملانہ اس حالت میں میں دیکھتا تھا کہ کبھی آپ ہیں اور کبھی مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔آپ کے پاس شہد کی بوتلیں آئیں وہ کھولنے لگے تو میں نے کہا میں کھولتا ہوں آپ نے فرمایا میں کھولتا ہوں آخر آپ نے کھولیں کچھ آپ نے پیا اور کچھ میں نے پیا اس شیرینی سے میری آنکھ کھل گئی۔ایک دفعہ میں نے رسول کریم ہے اور مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا لیکن اس حالت میں میں دیکھتا ہوں کہ وجود تو ایک ہے لیکن جلوے دو ہیں تب میں نے خیال کیا کہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ دو ایک نہیں ہو سکتے یعنی ایک وجود میں دو جمع نہیں ہو سکتے۔پھر میں نے کہا کہ یہ باتیں لوگوں کے حق میں ہیں ورنہ خدا تعالی تو سب کچھ کر سکتا اور ایک وجود میں دو لا سکتا ہے۔پھر ایک دفعہ میں نے مہمان خانہ قادیان کو دیکھا کہ مکہ معظمہ اور عرفات کے طور پر ہے۔رسول اللہ اللہ نے اس میں نماز پڑھائی از نہ تاں جب کہ پیچھے کھڑا ہو گیا۔میری آنکھ کھل گئی۔اس وقت میں " دیان میں آیا۔ہوا تھا۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ میرا ایک تیرہ ہے اور رسول اللہ ﷺ اور مسیح موعود علیہ السلام اس میں نماز کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔جب تھوڑی دیر ہوگئی تو میں آگیا۔میں نے عرض کیا کہ نماز کا وقت ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہاری انتظار تھی۔اذان دو۔میں اس وقت انکا مؤذن تھا۔میں نے اذان دی اور میری آنکھ کھل گئی۔