شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 25
۲۵۰ کے اچھی طرح جواب دیتے رہے۔آخر یہ پوچھا کہ تم اس شخص کو جس نے مسیحیت کا دعویٰ کیا ہے کیا سمجھتے ہو آپ نے فرمایا کہ میں انکو سچا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور اور اس زمانہ کا مصلح سمجھتا ہوں اور وہ قرآن شریف کے مطابق نازل ہوئے ہیں۔پھر حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے بارہ میں سوال ہوا آپ نے جواب دیا کہ قرآن شریف ان کو مردہ فرماتا ہے لہذا میں انکو مردہ سمجھتا ہوں۔تب انہوں نے کہا کہ یہ تو ملامت 1 ہو گیا ہے قرآن شریف مسیح کو زندہ ظاہر کرتا ہے اور یہ مردہ وفات شدہ مانتا ہے۔پھر سب مولویوں نے کفر کا فتویٰ لگایا اور کہا کہ اس کو سنگسار کیا جاوے۔امیر مولویوں سے ڈرتا تھا اور نئی نئی بادشاہی تھی اس لئے امیر نے مولویوں کے حوالہ کر دیا اور باہر شہر کے مشرق کی طرف ہند و سوزان ایک جگہ ہے اور وہاں سولی ہے لے گئے۔راستہ میں بہت جلد جلد اور خوش خوش جارہے تھے۔ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔راستہ میں ایک مولوی نے پوچھا۔آپ اتنے خوش کیوں ہیں اور کیوں ایسی جلدی کر رہے ہیں۔ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیٹیاں ہیں اور ابھی آپ سنگسار ہونے کو ہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ ہتھکڑیاں نہیں ہیں بلکہ محمد مصطفیٰ اللہ کے دین کا زیور ہے۔اگر چہ سنگسار ہونے کی جگہ دیکھ رہا ہوں لیکن ساتھ ہی مجھے یہ خوشی ہے کہ میں جلد اپنے پیارے مولی سے مل جاؤں گا۔جس وقت کچھ پتھر مارے گئے حاکم نے کہا اب بھی توبہ کر لو میں چھوڑ دوں گا۔آپ نے فرمایا کہ تم شیطان ہو جو مجھے خدا کے راستہ اور حق سے روکتے ہو۔پس پھر وہاں مولویوں نے پتھر مار مار کر سنگسار کر دیا۔اس کے بعد ایسا ہوا کہ جب شہید مرحوم کو اپنے مقبرہ میں بعد سنگساری ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو میرو نام ایک ان کے شاگرد نے ارادہ کیا کہ انکو اپنے گاؤں میں لے جا کر دفن کیا جاوے چنانچہ اس نے پوشیدہ طور پر ان کی لاش کو انکے گاؤں میں لے جا کر دفن کر دیا ا مرقد