شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 24 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 24

۲۴ تکلیف نہیں۔پھر اس نے بہت اصرار کیا۔آخر اس وقت مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ اگر میں زمین کو حکم دیتا کہ ان کو پکڑ لے تو ضرور پکڑ لیتی۔میں نے ان نمبر داروں سے کہا کہ اچھا تم پکڑنے کے لیے راستہ میں بیٹھ جاؤ اور میں تمہارے پاس آتا ہوں اگر نہ آؤں تو میں اپنے باپ کا بیٹا نہیں ہوں۔اس کے بعد نمبر دار کو بھی میری حالت معلوم ہوئی اور میرے پاؤں پر گر پڑا کہ اس حالت میں ہمارے لئے بددعاء نہ کرنا ہمیں معاف کر دو میں نے کہا کہ معاف اس وقت ہوگا کہ تم اب مجھے سرحد سے پار چھوڑ آؤتب میں راضی ہونگا پس نمبر دار بمعہ آدمیوں کے مجھے اور میرے تمام بال بچوں کے ساتھ سرحد سے پار لے آئے۔اور پھر میں نے ان کو وہاں سے واپس کر دیا اور ہم سب چل دئے۔اور میں اپنے ساتھ شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ مولانا عبد اللطیف صاحب کے بال بطور نشانی کے اپنے ساتھ لایا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پیش کر دیئے اور آپ اس سے بہت خوش ہوئے اور شیشی میں بند کر کے بیت الدعاء میں رکھ دیئے۔صاحبزادہ عبداللطیف شہید مرحوم بڑے عالم انسان اور ذی عزت شخص تھے یہاں تک کہ آپ کو امیر کی طرف سے گیارہ سو روپیہ ملتے تھے۔اور ویسے آپ بڑی جائکہ اور کھتے تھے اور اپنے علاقہ میں رئیس اعظم تھے۔لیکن آپ نے حق کو نہ چھوڑا اور یک لخت تمام کی تمام عزت جاہ و جلال اور دولت و حشمت اور مال و مثال سب کچھ سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔یہاں تک کہ جان بھی جو بہت عزیز تھی وہ بھی قربان کر دی۔آپ کی سنگساری کا واقعہ یوں گزرا کہ جب آپ کی قید خانہ میں میعاد پوری ہوئی تو آپ کو شریعت کی طرف بلایا گیا اور مولویوں کو امیر کی طرف سے حکم ہوا کہ ان پر سوال کئے جائیں اور یہ سوال نہ کرے اور جواب دے تب ان پر کئی ہزار سوال ہوئے اور آپ سب