شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 23 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 23

۲۳ کسی نے حاکم سے رپورٹ کی کہ یہ مرزا کے پاس قادیان جاتا ہے اور ظاہر یہ کرتا ہے کہ حج کو چلا ہوں۔حاکم نے آدمی پکڑنے کو بھیجے۔گھر میں میرا بھائی اور چھا کا بیٹا تو نہیں تھا لیکن مجھے اور میرے چچا کو لے گئے وہاں میں نے حاکم سے کہا کہ غرض تو میرے ساتھ ہے رپورٹ بھی میری ہوئی ہے میرے چا کو چھوڑ دو۔چونکہ حاکم میرا دوست تھا میرے چچا کو چھوڑ دیا اور مجھے رکھ لیا۔پھر میں نے کہا کہ اگر میں حج کو جاتا تو میں اپنی جائداد خرچ کے لئے بیچتا لیکن دریافت کرالیں کہ میری جائداد ویسی کی ویسی ہے اور زمین دار آدمی ہوں میرے پاس اتنی دولت کہاں ہے کہ بغیر جائداد بیچنے کے جاؤں۔تب مجھے حاکم نے چار پانچ روز تک نظر بند کر لیا۔کچھ آدمی میرے پاس آئے کہ ہم تمہارے ضامن ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا کہ نہیں تم میرے ضامن نہ بنو میں ضرور جاؤں گا آپ کو بے فائدہ تکلیف ہوگی۔میرے گرداگر لوہے کی چار دیواری ہو تو وہ بھی مجھے راستہ دے گی اور میں انشاء اللہ تعالیٰ چلا جاؤں گا۔اس طرح دھو کے سے اور کسی کو ضمانت میں پھنسا کر جانا نہیں چاہتا۔کچھ روز بعد میں گھر گیا اور رات کے بارہ بجے جانے کا ارادہ کر لیا۔تمام بال بچوں سے پوچھا تو سب نے رضا مندی سے جانیکی اجازت دی۔رات کے وقت گاؤں کے نمبر دار وغیرہ میرے پاس آئے کہ نہیں ہم نہیں جانے دینگے یونہی ہم عذاب میں گرفتار ہو جائیں گے۔جب میں نے ارادہ روانگی کا کیا تو تمام ملک اور زمین وغیرہ میرے سامنے ہو گئے کہ کیا ہمیں چھوڑ کر چلے جاؤ گے تب میں نے کہا کہ اچھا میں وزن کروں گا کہ آیا اللہ تعالیٰ کا فضل بہتر ہے یا یہ ملک و دولت۔اس خواہش کے ہوتے ہوئے اسی وقت تمام نظارہ غائب ہو گیا۔پھر میں نے گاؤں کے نمبر دار وغیرہ کو کہا کہ میں نے اور میرے باپ دادوں نے آپ لوگوں کو خدا کا کلام سنایا اور لکھایا اور پڑھایا کیا تم چاہتے ہو کہ حاکم مجھے تکلیف دے۔انہوں نے کہا کہ نہیں پھر کہا۔کیا تم چاہتے ہو کہ ہم سب گاؤں کو تکلیف پہنچے۔میں نے کہا کہ تم نے تو اپنا فرض پورا کر لیا ہے حاکم کو آگاہ کیا اور میں حاکم کے پاس سے ہو کر آیا ہوں پھر تم پر کوئی