شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 17
سے نکال کر میرے حوالہ کیا اور کچھ نہ فرمایا۔میں آپ کے ساتھ ہولیا۔جب گاؤں سے نکلا تب آپ نے فرمایا کہ پہلے پہل جب آپ مجھے ملے تھے تو میں بہت خوش ہوا اور دل میں خیال کیا کہ ایک باز میرے ہاتھ میں آیا ہے۔اس بارہ میں میرے ساتھ لمبی گفتگو کی جب بہت دور تک میں ساتھ ساتھ گیا تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ اب گھر چلے جاؤ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے ساتھ خدمت کے لئے چلتا ہوں۔فرمانے لگے کہ تم میرے ساتھ مت جاؤ۔تمہارا میرے ساتھ جانا منع ہے اور فرمایا ولا تُلْقُوا بِايْدِ يْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ تم اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔اور فرمایا کہ اس گاؤں سے اپنے گھر چلے جاؤ۔میں رخصت ہو گیا اور آپ سواروں کے ساتھ خوست کی چھاؤنی میں چلے گئے۔اور گورنر نے حکم سنایا کہ یہ حکم آپ کے متعلق آیا ہے کہ نہ کوئی آپ کو ملے اور نہ آپ کسی سے نہیں اور نہ کلام کریں اس لئے آپ کو علیحدہ کو بھی دی جاتی ہے لہذا انہیں علیحدہ کوٹھی رہنے کے لئے مل گئی اور پہرہ ان پر قائم ہو گیا۔لیکن گورنر نے یہ رعایت ان کے لئے رکھی کہ ان کے عزیز رشتہ دار وغیرہ ان کے ملنے کے لئے آجاتے اور مل لیتے تھے۔جب ان کے مرید ملنے کے لئے آئے تو اس وقت بھی انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ کو اور آپ کے اہل وعیال کو نکال لے جائیں گے یہ لوگ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے ہم تعداد میں زیادہ ہیں لیکن حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب مرحوم نے اس موقعہ پر بھی یہی فرمایا کہ اب مجھے امید ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ سے دین کی خدمت ضرور لے گا تم یہاں کوئی منصوبہ نہ باندھنا تا اس کوٹھی میں بھی ہم سے زیادتی نہ ہو۔خوست میں آپ کو اس لئے رکھا گیا تھا کہ گورنر کو خوف تھا اور خیال کرتا تھا کہ اگر سردست انکو کابل لے گئے تو ایسا نہ ہو کہ راستہ میں ان کے مرید ہم پر حملہ کر دیں اور ہم سے چھڑالے جائیں۔اس لئے دو تین ہفتہ کے بعد جب گورنر کو معلوم ہو گیا کہ یہ خود ہی لوگوں کو اس مقابلہ سے منع کرتے ہیں تو تھوڑے سے سوار ساتھ کر کے صاحبزادہ صاحب کو