شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 15
لائق نہیں ہو۔انہیں میں سے ایک آدمی عبد الغفار صاحب برادر مولوی عبد الستار صاحب مہاجر قادیان نے جو بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں اس مجلس سے اٹھ کر عرض کیا کہ میں حاضر ہوں آپ خوش ہو گئے اور اسے تمام خطوط دے دیئے۔اس وقت سردی کا موسم تھا تمام برف پڑی ہوئی تھی۔اس نے کاغذ لے جا کر جنکے نام خطوط تھے دیدئے۔یہ عبد الغفار ان لوگوں سے جن کے نام خطوط تھے شہید مرحوم کی وجہ سے خوب واقف تھے جب مولوی عبد الغفار صاحب نے ان سے جواب مانگے تو مرزا محمد حسین خان صاحب گورنر نے جواب دیا کہ تم ابھی چلے جاؤ بعد میں ڈاک کے ذریعہ مولوی صاحب کو جواب پہنچ جائے گا۔پس وہ تمام خطوط بادشاہ کے یہاں پیش ہوئے۔بادشاہ نے تمام اپنے معتبر مولویوں کو بلایا اور کہا کہ ان خطوط کے بارہ میں کیا جواب دیتے ہو۔مولویوں نے عرض کیا کہ یہ دعوی کرنے والا شخص آدھا قرآن شریف مانتا ہے اور آدھا نہیں مانتا اور کافر ہے۔جو اس کو مانے وہ بھی کا فر اور مرتد ہے۔اگر صاحبزادہ صاحب کے کلام کو ڈھیل دی جاوے گی تو بہت لوگ مرند ہو جاویں گے۔تب امیر نے گورنر خوست کو حکم بھیجا کہ صاحبزادہ صاحب کو گرفتار کر کے پچاس سواروں کے ساتھ یہاں بھیج دو۔کوئی ان سے کلام نہ کرے اور نہ کوئی ملنے کیلئے آئے نہ یہ کسی کومیں اور نہ کسی سے کلام کریں۔مولوی عبدالغفار صاحب نے واپس آکر صاحبزادہ صاحب سے عرض کی کہ مجھے تو کوئی جواب نہیں ملا مگر محمد حسین خان صاحب نے یہ کہا ہے کہ تم جاؤ جواب ڈاک میں آجائے گا مولوی صاحب نے یہ بھی کہا کہ مجھے تو خطرہ معلوم ہوتا ہے۔اس نظرہ کے ہوتے ہوئے بھی صاحبزادہ صاحب نے کوئی پروانہ کیا۔جواب کے آنے میں قریباً تین ہفتے گزر گئے۔ایک روز میں اور صاحب زادہ صاحب اور ایک اُن کے خادم عبدالجلیل صاحب سیر کو جارہے تھے کہ صاحبزادہ صاحب اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر کہنے لگے کہ تم ہتھکڑیوں کی طاقت رکھتے ہو ؟۔اور مجھے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جب میں مارا جاؤں گا تو میرے مرنے کی اطلاع مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کر دینا۔یہ سن کر