شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 11
موعود علیہ السلام کے بارہ میں پوچھا آپ نے فرمایا کہ یہ احمد ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ تو کہتے ہیں کہ میں غلام احمد ہوں اور آپ کہتے ہیں کہ وہ احمد ہیں۔شہید مرحوم نے کہا کہ تم این طرح نہ کہتا۔کیونکہ جب تم غلام احمد کہو گے پھر تو سید بن جا وینگے کیونکہ سید القوم خادھم یہ تو پھر رسول اللہ اللہ سے بھی درجہ بلند کر دو گے اسلئے تم صرف اتنا کہو کہ یہ احمد ہیں تب وہ لوگ چپ ہو گئے۔پھر ان لوگوں نے چکڑالی عقیدہ پیش کیا اور کہا کہ ایسے آدمی کے حق میں آپ کیا کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ایسا آدمی اگر قصداً ایسی باتیں کرتا ہے تو کافر ہے ور نہ مجنون ہے۔ایک روز میاں معراج الدین صاحب آئے اور شہید مرحوم سے کہا کہ کھانا تیار ہے کھانے کے لئے تشریف لے چلئے۔جب ہم سب اٹھے تو وہ ہمیں کسی اور کے گھر لے گئے وہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔لوگ اٹھ کر کہنے لگے کہ یہاں بیٹھئے یہاں بیٹھیئے۔تب شہید مرحوم نے میاں معراج الدین مصاحب کو غصہ سے کہا کہ تم نے ہمیں خیرات خود سمجھا ہے کہ یہاں لے آئے ہیں۔یہ کہہ کر شہید مرحوم با ہر نکل آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ نام نکلے آیات ہمارے ساتھ کوئی واقف آدمی نہ تھا کہ ہمیں مسجد کا راستہ بتلائے جب شہید مرحوم نے مجھے فرمایا کہ تم آگے ہو جاؤ تو میں یونہی نا واقعی کی حالت میں چل پڑا خدا نے ہمیں مسجد میں پہنچا دیا بجب تمام کتا ہیں مجلد ہو گئیں تو ہم لاہور سے چل پڑے۔تمام راستہ میں شہید مرحوم ریل گاڑی میں قرآن شریف کی تلاوت کرتے رہے آخر کو ہات میں ہم اتر ہے۔وہاں سے تم کرایہ کر کے شہر میں پہنچے۔شہر میں آکر یکہ خانہ میں بنوں جانے کے لئے ایک ٹمٹم والے کو سائی کا ایک رو پید یکرم کی مجب صبح ہوئی تو ایک سرکاری آدمی آیا تو اس ٹمٹم والے کو زبردستی لے گیا اور کہا کہ ایک سرکاری ضروری کام ہے۔جب ٹمٹم والے کو آنے میں دیر ہوئی تو شہید مرحوم نے مجھے ٹمٹم والے کی طرف بھیجا میں وہاں سے چل پڑا اور تلاش کرتے ہوئے آخر میں ٹمٹم والے کے پاس زیادہ کہنے لگا کہ میں نہیں آ سکتا مجھے سرکاری آدمی لے آیا ہے۔