شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 10
شہید مرحوم نے فرمایا کہ مولوی صاحب سے جا کر ضرور اجازت لینا کیونکہ مسیح موعود کے بعد یہی اول خلیفہ ہوں گے۔چنانچہ جب شہید مرحوم جانے لگے تو مولوی صاحب سے حدیث بخاری کے دو تین صفحے پڑھنے اور ہم سے فرمایا کہ یہ میں نے اس لئے پڑھے ہیں کہ تامین بھی ان کی شاگردی میں داخل ہو جاؤں حضرت صاحب کے بعد یہ خلیفہ اول ہوں گے۔اریانا شہید مرحوم امیر کابل سے چھ ماہ کی رخصت لیکر آئے تھے۔جب روانگی کا وقت آیا تو شہید مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رخصت ہوانے کی اجازت مانگی یہ حضرت نے فرمایا کہ جب آپ کو دوسرے سال حج کے لئے جانا ہے تو آپ پہلیں ٹھہر جاویں پھر آئیندہ متان حج کو روانہ ہو جانا بعد میں گھر بھی چلے جانا شہید مرحوم نے عرض کیا کہ نہیں حج کے لئے پھر آجاؤں گات جب شہید مرحوم روانہ ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوں کچھ لوگ قریبا ڈیڑھ میل تک چھوڑ نے کے لئے گئے۔جب رخصت ہونے لگے تو شہید مرحوم منی میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کے قدموں پر گرانے اور دونوں ہاتھوں سے قدم پکڑ لیے اور عرض کیا کہ میرے لئے دعا فرما ئیں۔تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا تمہاد کے لئے دعائیں کرتا ہوں تم میرے پاؤں کو چھوڑ دوں انہوں نے پاؤں نہ چھوڑنے پر اصرار کیا حضرت صاحب نے فرمایا الامر فوق الادب میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ چھوڑ دو۔جب شہید مرحوم نے پاؤں چھوڑتے۔حضرت صاحب واپس چلے آئے کہ مین اور مولوی عبد البستان صاحب مہا جو قادیان شہید مرحوم کے چند شاہ گردوں کے ساتھ چلے گئے کہ تمام راستہ میں شهید مرحوم تر آن تحریف کی تلاوت کراتے تو ہے التمور پہنچ کر میان چراغ الدین صاحب کے پرانے مکان کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد نے اپنی میں تین چار وان بھمبر ہے کہ کچھ کتابیں خرید کر انکی جلد بندھوائیں اور دوستوں کے میاں گھر تھے مگر چونکہ آپ کو تنہائی پسند تھی۔اس لئے مسجد میں اتر ہے۔ایک سات چکڑالوی لوگ آپ کے پاس آئے اور حضرت سیچ