شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 9
انوار میرے بہت اختیار میں ہیں۔پھر مولوی عبدالستار صاحب کو فرمایا کہ میرے چہرہ کی طرف ذرا دیکھو۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ سورج جو کہ کافی اونچا ہے میں اس کی طرف دیکھ سکتا تھا لیکن شہید مرحوم کی جبین کی طرف دیکھنا مشکل تھا آپ کے چہرہ سے ایسی شعاعیں نکلتی تھیں کہ سورج سے کئی درجہ بڑھ کر تھیں۔قریبا تین مہینے شہید مرحوم نے قادیان میں قیام کیا۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جاتے شہید مرحوم ساتھ ہوتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہید مرحوم سے از حد محبت رکھتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیر کو تشریف لے جا رہے تھے اور شہید مرحوم اور چند ایک آدمی اور بھی ساتھ تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیر سے واپس گھر چلے آئے تو شہید مرحوم نے ہمیں مہمان خانہ میں آکر اور مخاطب ہو کر فرمایا آج ایک عجیب واقعہ ہوا ہے کہ جنت سے ایک حور اچھے خوبصورت لباس میں میرے سامنے آئی اور کہا کہ آپ میری طرف بھی دیکھیں میں نے کہا کہ جب تک مسیح موعود السلام میرے ساتھ ہیں انکو چھوڑ کر تیری طرف میں نہیں دیکھوں گا تب وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سیر کو جارہے تھے پھر جب واپس گھر آئے تو شہید مرحوم نے مجھے فرمایا کہ تم نے اپنے والد صاحب کو دیکھا میں نے کہا کہ نہیں آپ نے فرمایا کہ وہ تو تمہارے ساتھ ساتھ اور حضرت مسیح موعود کے پیچھے آرہے تھے۔حالانکہ میرے والد صاحب کئی برس پہلے گزر چکے تھے۔شہید مرحوم کھانا بہت کم کھایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ میں دوزخ کا شور وغوغا سنتا ہوں اگر لوگ سنیں تو وہ بھی کھانا نہ کھا ئیں ایک دفعہ عجب خان تحصیل دار جو ہمارے یہاں آئے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود سے گھر جانے کی اجازت لیکر شہید مرحوم کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے حضرت صاحب سے اجازت لے لی ہے لیکن مولوی نورالدین صاحب سے نہیں لی