شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 51 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 51

عبدالئی کے پاس بھی گیا تھا لیکن میں نے اس میں ایسی جگہ نہیں پائی۔آخر کچھ عرصہ کے بعد صاحبزادہ صاحب اپنے وطن خوست کو چلے آئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب سے احمد نور نے عرض کیا کہ میرے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ میرے ایک کان میں سورج چڑھتا ہے اور دوسرے میں غروب ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ مجھ میں سورج چڑھتا ہے اور کبھی غروب نہیں ہوتا۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہی شخص ہے جسکی دنیا انتظار کر رہی تھی خدا کی طرف سے سچا اور لوگوں کو راہ راست پر لانے والا ہے۔میں نے عرض کیا کہ اگر کسی نے نہ مانا آپ نے فرمایا کہ تعلیم پہنچنے پر بھی جو انکار کرے گا تو وہ کا فرقرار پائے گا۔رسول کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔فرمایا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا بروز مجھ پر ہوتا ہے جو بالکل نہیں جاتا اور یہ الہام ہوا کرتا ہے۔محمد ابن احمد غلام غلام احمدہ۔فرمایا اے احمد نور تو نہیں جانتا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وزیر ہوں جس نے مجھے نہیں پہچانا اس نے صحیح موعود علیہ السلام کو بھی نہیں پہچانا۔فرمایا قادیان شریف میں وہی آرام سے رہتا ہے جو درود شریف بہت پڑھتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت سے محبت رکھتا ہے۔مسجد مبارک میں اللہ تعالیٰ نے مکہ اور مدینہ کی برکتیں نازل کیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیرو بھی آسمان میں ہیں۔جب منارة امسیح مکمل ہو جائے گا تب اللہ تعالیٰ کے تمام کمالات اور فیضان کا نزول ہوگا۔ایک روز صاحبزادہ صاحب کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔فرمایا میں دیکھتا ہوں کہ ملائکہ نے میرے سبب سے بہت لوگوں کو قتل کیا ہے میں کیا کروں میں نے تو قتل نہیں کیئے۔ایک دفعہ میں نے کسی روحانی مقام کے بارہ میں دریافت کیا تو فرمایا کہ یہ مقام مقربوں کا ہے اور انبیاء کا مقام اس سے فوق ہے۔اور میرا مقام انبیاء کا مقام ہے۔آپ کے بارہ میں