واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 22

واقعات شیریں — Page 19

بولے کہ پہلے میرا خواب سن لو چنانچہ انہوں نے اپنا خواب یوں بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی کہ تم آج ہی قبل اس کے کہ صبح ہو قید سے رہا کیسے جاؤ گے۔" ( ملفوظات جلد دہم ص ۱۸) چوروں قطب بنایا ای " تقوی کا رعب دوسروں پر بھی پڑتا ہے اور خدا تعالیٰ متقیوں کو ضائع نہیں کرتا۔میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جو بڑے اکا بر میں سے ہوئے ہیں ان کا نفس بڑا مظہر تھا ایک بار انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میرا دل دنیا سے برداشتہ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ کوئی پیشوا تلاش کروں جو مجھے - سکینت اور اطمینان کی راہیں دکھلائے۔والدہ نے جب دیکھا کہ اب ہمارے کام کا نہیں رہا۔تو ان کی بات کو مان لیا اور کہا کہ اچھا میں تجھے رخصت کرتی ہوں۔یہ کہہ کر اندر گئی اور انٹی مہریں جو اس نے جمع کی ہوئی تھیں اٹھا لائی اور کہا کہ ان مہروں سے حصہ شرعی کے موافق چالیس مہریں تیری ہیں اور چالیس تیرے بڑے بھائی کی۔اس لیے چالیس مہریں تجھے بمعہ اسدی دیتی ہوں یہ کہ کردہ چالیں مہریں ان کی بغل کے نیچے پیراہن میں سی دیں اور کہا کہ امن کی جگہ پہنچے کہ نکال لینا اور عند الضرورت اپنے صرف میں لانا - سید عبد القادر صاحب نے اپنی والدہ سے عرض کی مجھے کوئی نصیحت فرما دیں۔انہوں نے کہا کہ بیٹا جھوٹ کبھی نہ بولنا۔اس سے بڑی برکت ہوگی۔اتنا سن کر حضرت سید عبد القادر ” جب گھر سے رخصت ہوئے تو پہلی منزل میں ایک جنگل میں سے ان کا گزر ہوا اتفاق ایسا ہوا کہ جس جنگل میں سے ہو کہ آپ گزرے اس میں چوروں اور قزاقوں کا ایک بڑا قافلہ رہتا تھا۔جہاں ان کو چوروں کا ایک گروہ ملا۔دور سے سید عبد القادر پر بھی ان کی نظر پڑی۔قریب آئے تو انہوں نے ایک کمبل پوش فقیر سا دیکھا ایک نے ہنسی سے دریافت کیا کہ تیرے پاس کچھ ہے ؟ آپ ابھی اپنی والدہ سے تازہ نصیحت سن کر آئے تھے کہ جھوٹ نہ بولنا۔والدہ کی آخری نصیحت پر غور کیا اور فوراً جواب دیا کہ ہاں میرے پاس ۴۰ اشرفیاں ہیں جو میری بغل کے نھے ہیں جو میری والدہ نے کیسہ کی طرح سی دی ہیں اس قزاق نے سمجھا کہ یہ ٹھٹھا کرتا ہے۔دوسرے قزاق نے جب پوچھا تو اس۔کو بھی یہی جواب دیا الغرض ہر ایک چور کو یہی جواب دیا۔وہ چور یہ سن کو حیران ہوئے کہ یہ فقیر کیا کہتا ہے۔ایسا راستباز ہم نے کبھی نہیں دیکھا وہ آپ کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گئے اور سارا قصہ بیان کیا کہ بار بار یہی کہتا ہے۔اس نے جب آپ سے سوال کیا تب بھی آپ نے وہی جواب دیا۔امیر نے کہا۔اچھا اس کا کپڑا دیکھو تو سہی جب تلاشی