واقعات شیریں — Page 6
" بے ہودہ بے موقع باتوں سے احتراز کیا جائے ، و ملفوظات جلد اول ص ۴۲۲) امام ابو حنیفہ کا عمل حضرت امام ابو حنیفہ " کے پاس ایک شخص آیا کہ ہم ایک مسجد بنانے لگے ہی آپ بھی اس میں کچھ چندہ دیں۔انہوں نے عذر کیا کہ میں اس میں کچھ دے نہیں سکتا حالانکہ وہ چاہتے تو بہت کچھ دیدیتے۔اس شخص نے کہا کہ ہم آ نے کہا کہ ہم آپ سے بہت نہیں مانگتے تبر کا کچھ دے دیجئے آخر انہوں نے ایک دوٹی کے قریب سکہ دیا۔صرف ایک فقیر بیٹھا تھا جس نے بمشکل اپنا ستر ہی ڈھانکا ہوا تھا۔اس نے اس سے پوچھا کہ بائیں جی کیا حال ہے۔فقیر نے اسے جواب دیا کہ جس کی ساری مرادیں پوری ہو گئی ہوں اس کا حال کیسا ہوتا ہے ؟ اسے تعجب ہوا کہ تمہاری ساری مرادیں کس طرح حاصل ہو گئی ہیں۔فقیر نے کہا جب ساری مرادیں ترک کر دیں تو گویا سب حاصل ہو گئیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ جب یہ سب حاصل کرنا چاہتا ہے تو تکلیف ہی ہوتی ہے لیکن جب قناعت کر کے سب کچھ و چھوڑ دے تو گویا سب کچھ ملتا ہوتا ہے۔نجات اور مکتی یہی ہے ر ملفوظات جلد سوم ص ۴۲۲) شام کے وقت وہ شخص دوئی لے کر واپس آیا اور کہنے لگا کہ حضرت چالیس چراغ یہ تو کھوٹی نکلی ہے وہ بہت ہی خوش ہوئے اور فرمایا خوب ہوا دراصل میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ میں کچھ دوں مسجدیں بہت ہیں اور مجھے اس میں اسراف معلوم ہوتا ہے " ) ملفوظات جلد دوم ص ۲۹۹ قناعت کہتے ہیں کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار چلا جاتا تھا راستہ ہیں ایک قصہ مشہور ہے ایک بزرگ نے دعوت کی اور اس نے چالیس چراغ روشن کیے۔بعض آدمیوں نے کہا اس قدر اسران چاہیے۔اس نے کہا جو چراغ میں نے ریاء کاری سے روشن کیا ہے اسے بجھا دو۔کوشش کی گئی ایک بھی نہ بجھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی فعل ہوتا ہے اور دو آدمی اس کو کرتے ہیں ایک اس فعل کو کرنے میں مرتکب معاصی کا ہوتا ہے اور دوسرا ثواب کا اور یہ فرق نیتوں کے اختلاف سے پیدا ہو جاتا ہے" ) ملفوظات جلد چهارم (۲۷)