واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 22

واقعات شیریں — Page 14

۲۴۷ گا اور آپ کا ساتھ دوں۔اس نے کہا کہ اگر تو میرے ساتھ پہلے گا تو مجھ سے کسی بات کا سوال نہ کرتا پس جب چلے تو ایک دیوار دو یتیم لڑکوں کی تھی وہ گرنے والی تھی اس کے نیچے خزانہ تھا لڑکے ابھی نابالغ تھے اس دیوار کے گرنے سے اندیشہ تھا کہ خزانہ ننگا ہو کر لوگوں کے ہاتھ آجائے گا وہ لڑکے بیچارے خالی ہاتھ رہ جاویں گے تو اللہ تعالیٰ نے دو نبیوں کو اس خدمت کے واسطے مقرر فرمایا کہ اس کی مرمت کریں وہ گئے اور اس دیوار کو درست کر دیا تاکہ جب وہ جوان ہوں تو اس خزانہ کو نکال کر استعمال کریں۔کیا وجہ تھی کہ خدا کے ایسے دو عظیم الشان آدمیوں کو وہاں بھیجا اس کی وجہ یہی تھی و كان ابوهما صالحا یعنی ان لڑکوں کا باپ نیک کار مرد تھا۔باپ کی نیکی اور صلاحیت کیلئے خضر اور موسے جیسے اولوالعزم ہیں نمبر کو مزدور بنا دیا۔۔۔۔۔۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جس کے واسطے ہم ان کے خزانہ کی حفاظت کی کہ جب وہ بڑے ہوں تو پھر کسی طرح ان کے ہاتھ میں وہ خزانہ آجاوے۔اللہ تعالیٰ کے ایسا فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن دو لڑکوں کیلئے حضرت خضر نے تکلیف اٹھائی اصل میں وہ اچھے چال چلن کے ہونے والے نہیں تھے بلکہ غالباً وہ یہ چکن اور خراب حالت رکھنے والے علیم الہی میں تھے۔لہذا خدا تعالیٰ نے بباعث اپنی ستاری کی صفت کے ان کے چال چلن کو پوشیدہ رکھ ۴ ان کے باپ کی صلاحیت ظاہر کردی اور ان کی حالت کو جو اصل میں اچھی نہیں تھی کھول کر نہ سنایا اور ایک خولیش کی وجہ سے دو بیگانوں پر رحم کر دیا۔دیکھو کہاں یہ بات کہ اللہ تعالٰی نے اس شخص کے واسطے اس کی اولاد کا اس قدر خیال رکھا اور کہاں یہ کہ انسان غرق ہوتا چلا جاتا ہے۔خدا تعالی کی پر واہ نہیں کرتا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے ہر حال میں تعلق رکھتے ہیں خدا تعالے ان کو ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے دیہ واقعہ ملفوظات جلد سوئم ص ۳۳ ، جلد پنجم ص ۲۴۵ ، جلده م۔اور مکتوبات احمد جلد ۲۵ ص۱۵ پر تفاصیل کے فرق سے درج ہے یہاں پر اس واقعے کی تفاصیل کو پیکجا کر دیا گیا ہے ) دعا کی شرط ! ۶۸ " "تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے کسی نے دعا کی خواہش کی۔بزرگ نے فرمایا کہ دودھ چاول لاؤ۔وہ شخص حیران ہوا۔آخر وہ لایا۔بزرگ نے دعا کی اور اس شخص کا کام ہو گیا۔آخر اسے بتلایا گیا کہ یہ صرف تعلق پیدا کرنے کیلئے تھا۔ایسا ہی باوا فرید صاحب کے متذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک