واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 15 of 22

واقعات شیریں — Page 15

۲۷ شخص کا قبالہ گم ہوا۔اور وہ دعا کے لیے آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے حلوہ کھلاؤ اور وہ قبالہ حلوائی کی دوکان سے مل گیا “ ) ملفوظات جلد نہم ص ۲۳) " دعاؤں کا ہتھیار کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ کسی ملک پر چڑھائی کرنے کے واسطے نکلا۔راستہ میں ایک فقیر نے اس کے گھوڑے کی باگ پکڑ لی اور کہا کہ تم آگے مت بڑھو ورنہ میں تمہارے ساتھ لڑائی کروں گا۔بادشاہ حیران ہوا اور اس سے پوچھا کہ تو ایک بے سرو سامان فقیر ہے تو کس طرح میرے ساتھ لڑائی کرے گا لتی جو دعا کے واسطے ضروری ہے ایک صوفی کا ذکر ہے کہ وہ راستہ میں جاتا تھا کہ ایک لڑکا اس کے سامنے گرپڑا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی صوفی کے دل میں درد پیدا ہوا اور اس جگہ خدا تعالیٰ کے آگے دعا کی۔اور عرض کی کہ اے خدا تو اس لڑکے کی ٹانگ کو درست کر دے ورنہ تو نے اس قصاب کے دل میں درد کیوں پیدا کیا ( ملفوظات جلد نهم ص(۴) تعلق محبت کا ایک ذریعہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص شیخ نظام الدین صاحب ولی اللہ کے پاس اپنے ذاتی مطلب کیلئے دعا کرانے کے واسطے گیا تو انہوں فقیر نے جواب دیا کہ میں صبح کی دعاؤں کے ہختیار سے تمہارے مقابلہ نے فرمایا میرے واسطے دودھ چاول لے آ۔اس شخص کے دل میں جنگ کروں گا۔بادشاہ نے کہا میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا یہ کہ کہ میں خیال آیا کہ عجیب ولی ہے۔میں اس کے پاس اپنا مطلب ہے وہ واپس چلا گیا “ ( ملفوظات جلد نهم ص (۲) کر آیا ہوں تو اس نے میرے آگے اپنا ایک مطلب پیش کر دیا ہے مگر وہ چلا گیا اور دودھ چاول پکا کرلے آیا جب وہ کھا چکے تو انہوں نے اس کے واسطے دعا کی اور اس کی مشکل حل ہو گئی۔نب نظام الدین صاحب نے اس کو بتلایا کہ میں نے تجھ سے دودھ دعا میں درد اصولی دعا میں یہ بات ہے کہ جب تک انسان کو کسی کے حالات چاول اس واسطے مانگے تھے کہ جب تو دعا کرانے کے واسطے آیا کے ساتھ پورا تعلق نہ ہو تب تک وہ رقت اور درد اور توجہ نہیں ہو تھا تو میرے واسطے بالکل اجنبی آدمی تھا اور میرے دل میں تیرے