حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 52 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 52

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 52 خود نوشت حالات زندگی بجلی کے ایک پول کے ساتھ بلب کے نیچے کھڑے ہو کر میری تقریر سننے لگے۔ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔بینڈ کی سریلی آواز کے ساتھ ایک ایک مطالبہ پر نعرے لگ رہے تھے۔مرزا محمود زنده باد وغیرہ۔غرض حکومت کے ذمہ دار کارکنان اور پبلک دونوں کی طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا مگر آج کل کے مؤرخ حضور کو اپنی تصانیف میں نظر انداز کر کے ناکردہ خدمت کی داد اپنے بیٹے۔ہیں۔وائس بوالعجبی • شیخ عبداللہ سے آخری ملاقات جب شیخ محمدعبد اللہ کو یہ سوجھا بلکہ ان کوسو جھایا گیا کہ نیشنل کانفرنس کی بنیاد ڈالی جائے۔یہ تحریک پنڈت جیالال کلم ایم۔اے وغیرہ کی طرف سے تھی۔یہ لوگ اپنی تجویز میں مخلص تھے اور کشمیری قوم و وطن کے ہمدرد بھی لیکن ایک عنصر موجود تھا جو کسی بھی وقت بہت خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔حضور نے از راہ ہمدردی میرے ذریعہ انہیں یہ پیغام بھیجا کہ یہ راہ خطرناک ثابت ہوگی۔میں نے انہیں مشورہ دیا کہ یہ قدم ابھی نہ اٹھایا جائے اور حضرت امام جماعت احمدیہ سے انہیں ملاقات کا مشورہ دیا۔میری آخری ملاقات ان سے پنڈت جواہر لال نہرو کے مکان میں مارچ ۱۹۴۶ء میں ہوئی جب میں اس غرض سے دہلی بھیجا گیا تھا کہ کانگریس کے ممبران سے ملاقات کر کے ان پر واضح کیا جائے کہ جماعت احمدیہ ان سے صرف اسی صورت میں مطلوبہ اتحاد و تعاون کر سکتی ہے جب مجلس مشاورت جماعت احمدیہ کی پیش کردہ دو شرطیں قبول کر کے وہ بنیادی قواعد میں شامل کر لی جائیں۔اس غرض کیلئے میں مرحوم ابوالکلام (آزاد) پریذیڈنٹ کانگریس، پنڈت جواہر لال نہرو اور گاندھی جی وغیرہ سے ملا۔ملاقات کے وقت مولوی علی محمد صاحب اجمیری، مہاشہ محمد عمر صاحب اور ڈاکٹر لطیف بھی تھے۔جس دن پنڈت جواہر لال نہرو سے میری ملاقات ہوئی تو شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے اس وقت بھی میری گفتگو ہوئی وہ ان دنوں دہلی میں پنڈت صاحب