حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 32 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 32

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 32 خود نوشت حالات زندگی سے محبت ہے۔(۲۴) وہ میری انتظار میں ہیں کہ کب آتا ہوں۔(۲۵) دوڑتے دوڑتے کیا دیکھتا ہوں کہ فضا میں پرواز کر رہا ہوں (۲۶) اور اس شہر میں اترتا ہوں۔(۲۷) جو نبی میرے قدم زمین سے چھوتے ہیں تو اپنے سامنے استقبال کرنے والوں کو پاتا ہوں (۲۸) اور میری زبان پر یہ الفاظ ہیں۔جنتكُمْ لا بَلَغَ ، جنتكُمْ لا بَلَغَ ، جِئْتُكُمْ لا بَلَغَ۔(یعنی میں آپ کو دعوۃ الی اللہ کرنے کیلئے آیا ہوں ) جنہیں میں دُہراتا ہوں۔اس وقت دارالانوار ( قادیان) کی (بیت) سے شیریں آواز اذان سنائی دے رہی ہے اور میری اہلیہ جو قریب ہی بچوں کے ساتھ سوئی ہوئی ہوتی ہیں پوچھتی ہیں۔کیا ہے؟ کس سے باتیں کر رہے ہیں اور میں نے ان کو وہ سارا ماجرا سنایا جو ان لمحات میں شروع ہوئے جو سحری کے آخری لمحات) تھے۔میں اس ماجرہ سے حیران تھا کہ یہ میدانِ کارزار کیا ہے کیونکہ ۱۹۴۵ ء میں جنگ عظیم دوم ) ختم ہوئی۔رویا کی تعبیر کا ظہور اس وقت پنجاب کی تقسیم کا کوئی سوال نہ تھا اور نہ ہنگامہ آرائی کا کوئی خیال۔یہ نظارہ اس دن دیکھا جب ہم نے جنگ عظیم کے خاتمہ پر شکریہ کے تعلق میں ایک جلسہ کیا۔یہ جلسہ (بیت) اقصیٰ ( قادیان) میں ہوا تھا۔اسی رات سحری کے آخری وقت میں یہ نظارہ دکھایا گیا۔اس مکاشفہ سے متعلق اور بھی بعض تفصیلات ہیں جن کا ذکر کرنے کا موقع نہیں لیکن عجیب بات ہے که ۳ ستمبر ۱۹۴۷ء کو جب قادیان کی پولیس نے مجھے گرفتار کرنا چاہا تو مجھے رات کو صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب ( پسر حضرت مصلح موعود اللہ نور اللہ مرقدہ) کے کمرہ میں سونے کا مشورہ دیا گیا اور میں وہیں سویا۔اُس رات بارش ہو رہی تھی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب امیر جماعت قادیان بعض دوستوں سے یہ مشورہ کر رہے تھے کہ میرے متعلق کیا تدبیر اختیار کی جائے۔بارہ اور ایک بجے کے درمیان مکرم مرزا عبد الحق صاحب (سلمہ اللہ تعالیٰ ) اور میرے مرحوم بھائی سید محمود اللہ شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) اس اطلاع کے ساتھ میرے