حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 33 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 33

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 33 خود نوشت حالات زندگی پاس بھیجے گئے کہ ہم نے اچھی طرح مشورہ کر لیا ہے۔کوئی محفوظ راہ نہیں بجز اس کے کہ پولیس کے حوالے اپنے آپ کو کر دیا جائے۔میں صبح دارالانوار اپنی کوٹھی پر چلا جاؤں اور وہاں پر مرزا عزیز احمد صاحب کی کار آئے گی اور مرزا عبدالحق صاحب (اطال اللہ عمرہ) بھی میرے ساتھ ہوں گے اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دوں۔یہ کہہ کر دونوں چلے گئے اور میں اطمینان سے جیسے پہلے سویا ہوا تھا سو گیا۔چودہ تاریخ تک وصیت کر دیں تہجد کے وقت میں نے ایک وصیت لکھی۔صاحبزادہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے وہ وصیت سپرد کی اور (بیت) مبارک میں نماز صبح پڑھنے سے قبل انہیں بتایا کہ ایک ہفتہ قبل کشف میں آپ میرے پاس آئے ہیں اور نہایت ہی غمگین ہیں اور مجھ سے فرمایا کہ چودہ تاریخ تک وصیت کر دیں اور واپس ہوتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ یہ تقدیر معلق بھی ہو سکتی ہے۔آپ بہت ہی مغموم ہیں۔سو اس مکاشفہ اور سابق مفصل مکاشفہ کے سارے حصے پورے ہوئے۔میرے قید کے ساتھی جانتے ہیں کہ میں نے کوٹھری کی چکی پر اپنا نشیمن بنالیا تھا۔اسی پر نماز پڑھتا اور اس پر سوتا۔پہلے میں نماز پڑھاتا رہا کہ میری کوٹھڑی کا رُخ قبلہ کی طرف تھا اور جب کوٹھڑیاں تبدیل ہوئیں تو مرحوم چوہدری فتح محمد صاحب سیال (اللہ آپ سے راضی ہو) ہمیں نماز پڑھاتے تھے کہ اس تبدیلی سے ان کی کوٹھڑی کا رُخ قبلہ کی طرف تھا اور ( رؤیا کا ) آخری حصہ جنتُكُمْ لا بَلغَ اس وقت پورا ہوا جب جولائی ۱۹۵۶ء میں بذریعہ ہوائی جہاز حضرت خلیفتہ المسیح ( نور اللہ مرقدہ) کی نوازش = اور آپ کی دعاؤں کے ساتھ دمشق پہنچا۔يَا قَلْبِيَ اذْكُرُ أَحْمَدَا مرحوم عیسی خوری کے ہاں جو بہت بڑے ادیب اور مورخ تھے قیام کیا۔