حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 130
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 130 علمی کارنامے بعض کتب کا اجمالی تعارف حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے اپنا سب سے پہلا مضمون ۱۹۰۷ء میں سترہ سال کی عمر میں انجمن تشخیذ الاذہان کے اجلاس میں پڑھا۔اس وقت سے لے کر ۱۹۶۳ ء تک ستر سال سے زائد عرصہ پر محیط زندگی میں آپ کو قادیان ، دمشق ، بیروت ،ترکی اور پھر ربوہ میں اخبارات ورسائل اور جرائد میں سینکڑوں علمی اور تحقیقی مضامین لکھنے کی توفیق ملی ، نیز اس دوران کئی علمی کتب بھی آپ نے تحریر کیں۔جلسہ سالانہ قادیان اور جلسہ سالانہ ربوہ کے مواقع پر آپ کی علمی اور تربیتی تقاریر تاریخی اہمیت کی حامل ہیں جن میں سے بعض کتابی صورت میں بھی شائع ہوئیں۔اس باب میں آپ کے بعض علمی تحقیقی ، تربیتی اور اخلاقی کتب و تحریرات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔(۱) احمد المسيح الموعود و دعوة النزال یہ کتاب دراصل حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کی کتاب وفات مسیح کے بارہ میں دس ہزار روپے پینج کا عربی ترجمہ ہے جسے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب نے ۱۹۱۷ء میں ترجمہ کیا اور یہ کتاب پہلی بار نظارت تالیف واشاعت قادیان کے اہتمام سے شائع ہوئی جس کے کل ۵۶ صفحات ہیں۔(۲) اچھوت بھائیوں کے نام احمدیت کا پیغام اس کتاب کا تعارف کرواتے ہوئے حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب تحریر کرتے ہیں:۔سیکرٹری صاحب مجلس استقبالیہ مذاہب کانفرنس لکھنو نے بذریعہ تحریر مورخہ ۸۔مئی ۱۹۳۶ ء کو حضرت امام جماعت احمدیہ کو دعوت دی کہ آپ بھی مذاہب کا نفرنس کے موقعہ پر اپنے خیالات کے اظہار کے لئے اپنا نمائندہ بھیجیں۔آپ نے اس دعوت کو قبول فرماتے ہوئے مجھے