حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 69
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 69 خود نوشت حالات زندگی راضی ہو ) ہے مجھے اطلاع دی کہ حضرت اماں جان (سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ نور اللہ مرقد ہا) باہر سیر کیلئے تشریف لے جارہی ہیں اور وہ بھی ساتھ جائیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مشرقی صحن میں تنہا بیٹھ لکھ رہے ہیں۔ہمشیرہ نے مجھے پنکھا دیا اور کہا کہ اب موقع ہے حضور کو پنکھا کر و۔حضور چٹائی پر مشرق کی طرف منہ کئے بیٹھے لکھ رہے تھے۔شمال مغربی جانب صحن کے دروازے پر جا کر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور آہستہ آہستہ پنکھا شروع کر دیا۔آپ ایک بار یک قمیض پہنے ہوئے تھے۔سرسے ننگے تھے۔پنکھا کرنے سے سر کے بار یک بال قدرے لہرانے لگے۔مجھے خیال آیا کہ یہ وہ لطیف سیدھے بال ہیں جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔چاہا کہ ان بالوں کو چوموں۔میں اسی خیال میں تھا کہ حضور نے مجھے دیکھا اور مسکرائے۔ہاتھ سے پکڑ کر مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا۔فرمایا آپ تھک گئے ہیں۔میں بہت کھلاڑی تھا۔کبڈی کھیلتے میرے دائیں گھٹنے کا جوڑ ہل گیا تھا۔کافی علاج کروائے گئے لیکن جوڑ اپنی جگہ پر بحال نہ ہوا اور میں پھاؤڑی کی مدد سے چلا کرتا ا تھا۔حضرت والد صاحب وقتا فوقتا) میرے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دعا کیلئے لکھتے رہتے تھے۔حضور نے میٹھے تیل کا اور کافور کی مالش کرنے کا ارشاد فرمایا تھا اور فلاسفران دنوں بورڈنگ میں میرے پاؤں کی مالش کیا کرتے تھے۔حضور نے پوچھا کہ اب پاؤں کا کیا حال ہے۔میں نے عرض کیا کہ مالش کی جارہی ہے۔ایسا ہی دو چار اور باتیں مجھ سے دہرائیں اور اس کے بعد میں چلا آیا۔اسی ہفتہ میرے ہم جماعت فضل دین کھاریاں والے نے کھیلتے ہوئے میری پھاؤڑی توڑ دی۔قادیان ان دنوں ایک معمولی سی بستی تھی۔میں نے کوشش کی کہ بانس ملے اور پھاؤڑی بنائی جائے۔ہمارے بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ بھائی عبدالرحیم صاحب ھا تھے۔انہوں نے مرحوم عبد الرحیم یکے والے کو دو آنے دیئے کہ بٹالہ سے بانس لائیں مگر وہ ہر دفعہ بھول جاتے اسی طرح ہفتہ عشرہ گزر گیا اور اسی اثنا میں مجھے دیوار کا سہارا لے کر بورڈنگ سے مدرسے کے کمرے میں آنا جانا پڑتا۔میں نے دیکھا کہ میری ٹانگ سیدھی ہو