حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 55
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 55 خود نوشت حالات زندگی حضرت خلیفہ مسیح الثانی (نوراللہ مرقدہ) سے معافی مانگنے کیلئے آئیاور روتے ہوئے آپ کے پاؤں پڑ گئے اس وقت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے اور محترم ( مولانا عبدالرحیم ) در دصاحب حضور کے پاس بیٹھے تھے۔۔پنڈت بلکاک۔وزیر وزارت (انت ناگ) اسلام آباد۔جبری ریٹائرمنٹ۔(یاڑی پورہ سے میری واپسی پر جس رات وہ مجھے اسلام آباد ملے اور اپنی غلطی کی معافی طلب کی تو اس (وقت) ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب آف موگا بھی میرے ساتھ تھے اور ان کی مضطرا نہ حالت کے عینی شاہد ہیں۔اس ملاقات کے موجب ہمارے دوست خواجہ غلام نبی گل کار تھے۔انہوں نے مسلمانوں پر کافی مظالم توڑے تھے ) ایک انسپکٹر پولیس جس نے علاقہ ویری ناگ میں مظالم کئے تھے۔اس کا چالان کرایا گیا اور میری موجودگی میں اس کے خلاف (مقدمہ ) چلا اور تحقیق کے بعد آخر اس نے سزا پائی۔اس کا نام میرے ذہن سے اتر گیا ہے۔یہ مسلمان تھا۔مظالم کی سرگذشت کا ایک اور نمونہ علاقہ کھڑی ریاست میر پور کے تمام لوگ ظلم وستم سے تنگ آ کر جہلم میں ہجرت کر آئے تھے اور ریاست کے افسر انہیں واپس لانے میں نا کام ہو چکے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) ان دنوں دہلی میں تھے۔میں صورت حال سے آگاہ کرنے اور مشورہ لینے کی غرض سے دہلی گیا۔حضور نے اس موقعہ پر مظلومین کی مدد کرنے کیلئے ارشاد فرمایا۔میں نے مسٹر سالس بری کو بذریعہ تار اطلاع کی کہ میں جہلم آرہا ہوں اور راجہ محمد اکبر صاحب کی کوٹھی پر ٹھہروں گا۔آپ اگر وہاں تشریف لے آئیں تو مہاجرین کی واپسی کی تدبیر سوچیں۔کھڑی کا سارا علاقہ خالی تھا۔فصل کھڑی تھی اور جانوروں کا کوئی نگران نہ تھا۔نہایت ہی ابتری کا عالم تھا۔چنانچہ مسٹر سالس بری جہلم آئے اور میں نے ان سے گفتگو کی اور شرط یہ کی کہ میری موجودگی