حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 56 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 56

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 56 خود نوشت حالات زندگی میں مظلومین کی فریاد سنی جائی اور تحقیق کی جائے۔چنانچہ علی وال صاحب کا بنگلہ اس غرض کیلئے مقرر ہوا اور میں نے یہ بھی شرط لگائی کہ کوئی پولیس افسر بوقت تحقیق موجود نہ رہے۔چنانچہ مولوی ظہور حسین صاحب فاضل جہلمی یکے بعد دیگرے مظلومین کو لاری میں لاتے اور ایک ہفتہ تک واقعات کی چھان بین ہوتی رہی۔میں نے اپنے کلرک کو سمجھا دیا تھا کہ ایک طرف بیٹھ کر وہ واقعات ایسے طور سے نوٹ کرے کہ کسی کو معلوم نہ ہو۔چنانچہ مسٹر سالس بری کی بہت حد تک تسلی ہوئی اور انہیں یقین ہو گیا کہ اس علاقہ کے لوگ واقعی مظلوم ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری رام چند ڈی آئی جی اور ڈوگرا اسپر نٹنڈنٹ پر ہے جس کا نام غالبا رام رتن تھا۔میں نے مہاجرین کو تسلی دی اور انہیں واپس کیا۔دو ہفتہ تک جہلم کے مسلمانوں جن میں جماعت احمد یہ جہلم ( بھی شامل تھی ) نے مظلوم مہاجرین کی کھلے دل سے مدد کی۔رپورٹ وزیراعظم کی خدمت میں رپورٹ مرتب کر کے میں نے جموں آ کر وزیر اعظم مسٹر کالون کے سامنے پیش کی۔انہوں نے یہ رپورٹ انسپکٹر جنرل پولیس مسٹرل اتھر کو بھی اور جب یہ رپورٹ ان کو دی گئی تو میں ان کے پاس ہی تھا اور محمد یوسف صاحب سابق لیفٹینٹ " اپنی وردی میں ملبوس میری کرسی کے پیچھے کھڑے تھے۔ان سے ایک عجیب حرکت صادر ہوئی۔اگر کوئی مکھی میری طرف آتی تو اسے دور کرتے اور ایک دفعہ جھک کر میرے بوٹ سے بھی مٹی صاف کی۔بعد میں میں نے پوچھا آپ نے یہ کیا حرکت کی۔مجھے سخت شرم محسوس ہورہی تھی۔کہنے لگے یہ اس لئے کیا تا آئی جی پولیس کو آپ کے مقام کا علم ہو۔اس روح تواضع و بے نفس کے ساتھ ہمارے کارکن محاذ کشمیر میں کام کرتے رہے۔مولوی ظہور احمد صاحب نے بہت محنت سے کام کیا اور اس طرح دوسروں نے بھی۔جب مسٹر لاتھر میری رپورٹ پڑھ چکے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں پنجاب واپس جا رہا ہوں۔میں نے کہا آج جانے کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے نہیں آپ ٹھہر