حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 34
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 34 خود نوشت حالات زندگی بڑے گرجے کے نگران قسیس تھے۔خوری صاحب اس سے قبل بمعہ تین عیسائی ادباء کے مجھ سے دمشق ملنے آئے تھے کہا کہ وہ تحقیق کی غرض سے آئے ہیں۔اخباروں میں میرے بعض مقالات پڑھتے ہیں۔دوران گفتگو عیسی خوری نے بتایا کہ مصر کے کسی رسالے یا اخبار میں دیر ہوئی انہوں نے پڑھا تھا کہ اصل میں عالم تو نورالدین ( حضرت خلیفۃ ابیح الاول اللہ آپ سے راضی ہو ) ہیں جنہوں نے حجاز میں تعلیم حاصل کی اور خود بانی سلسلہ احمدیہ کی تعلیم معمولی ہے۔یہ کہہ کر انہوں نے ہم سے پوچھا کہ ان دونوں کا کوئی کلام عربی میں ہے جسے دیکھ کر وہ اندازہ کر سکیں۔( حضرت مولانا جلال الدین) شمس صاحب نے قصیدہ خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) جو براہین احمدیہ کی تعریف میں ہے انہیں دیا۔چند شعر پڑ کر انہوں نے کہا اس میں وزن کے لحاظ سے فلاں فلاں نقص ہے۔میں نے يَا قَلْبِيَ اذْكُرُ أَحْمَدَا کا قصیدہ ان کے سامنے رکھا اور بتایا کہ یہ قصیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے انہوں نے شعر پڑھنے شروع کئے اور پڑھتے چلے گئے حتی کہ وجد میں آگئے بے اختیار کہنے لگا یہ تو اعلیٰ درجہ کی عربی ہے۔ملاقات کے آخر میں عیسی خوری صاحب اور ان کے ساتھیوں نے باصرار دعوت دی کہ میں حمص آؤں۔عیسی خوری صاحب نے کہا میں ان کا مہمان ہوں گا۔چنانچہ انہوں نے پانچ دن ٹھہرایا۔کثرت سے عیسائی مرد اور عورتیں ملاقات کیلئے آتے۔دلچسپی سے میری باتیں سنتے۔عیسیٰ خوری صاحب میری شائع شدہ کتابیں (۱) الخــطــاب الجليل ، (۲) التعلیم، کشتی نوح کا ترجمہ ) (۳) کتاب حیات المسیح و وفاته اور (۴) الحقائق عن الاحمدیہ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ہفتے کی شام کو میں حمص پہنچا تھا۔اگلی صبح وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گرجے میں لے گئے جو فتح حمص سے قبل عیسائیوں کے قبضہ ہی میں رہا۔اُن کی عورتیں بھی ساتھ تھیں جنہوں نے اسلامی طرز کا پردہ کیا ہوا تھا۔عیسی خوری صاحب عبادت کے بعد مراقبہ کے لئے الگ ایک حجرہ میں گئے۔میں ایک طرف کھڑا تھا کہ عربی طرز کے لباس میں خوش پوش خوش شکل چند نو جوان میرے پاس آئے اور مجھ سے پوچھا