حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 3
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 3 سوانحی خاکہ۔۔اوائل 1911 ء میں ایک تعلیمی کلاس کا اجراء ہوا جس میں خطبہ الہامیہ، دروس النحویہ، قصیدہ بانت سعاد اور بعض اور کتب پڑھائی جاتی تھیں۔اس کلاس میں آپ بھی شامل ہوئے۔تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحه ۳۷۴) ۱۹۱۰ء سے ۱۹۱۲ ء تک آپ حضرت خلیفہ اسیح الاول نور اللہ مرقدہ کے مکتب میں قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔۲۶ جولائی ۱۹۱۳ء کو بلا دعر بیہ کا پہلی بار سفر کیا۔جولائی ۱۹۱۳ ء میں آپ عربی کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے قاہرہ روانہ ہوئے۔(الفضل قادیان ۳۰ جولائی ۱۹۱۳ء ) مدرسہ احمدیہ قادیان میں عربی علوم کی تدریس کیلئے چوٹی کے عربی اساتذہ کی ضرورت تھی۔چنانچہ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کو مصر بھیجا گیا ۲۶ جولائی ( ۱۹۱۳ء) کو قادیان سے روانہ ہوئے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نور اللہ مرقدہ نے انہیں الوداع فرمایا۔) تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ ۴۰۷ ، الفضل قادیان ۳۰ جولائی ۱۹۱۳ صفحہ۱ ) ۱۹۱۴ ء میں آپ کو قوم عاد اور ثمود کے علاقوں سے گذرنے کا موقع ملا جب کہ آپ سلطان صلاح الدین ایوبی کالج میں ادیانِ قدیمہ کے پروفیسر تھے۔جامع صحیح مسند بخاری ترجمه وشرح جز ۱۳ صفحه ۲۲۵) اپریل ۱۹۱۴ء میں دارالعلوم بیروت میں آپ نے قرآن مجید کے عنوان پر تقریر کی۔( الفضل قادیان ۱۳ مئی ۱۹۱۴ء ) ۲۷ اپریل ۱۹۱۴ء میں بیروت میں پہلا جلسہ ہوا جس میں آپ نے خطاب کیا۔الفضل قادیان ۲۳ مئی ۱۹۱۴ ء صفحه ۵)