حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 4 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 4

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب سوانحی خاکه۔۔۔اگست ۱۹۱۷ ء میں جنگ عظیم اول کے دوران آپ نے مرحوم نمیر نابلسی کے ہاں ملک شام میں قیام کیا۔( ترجمه و شرح جامع مسند بخاری جزءا ا صفحه ۱۱۹) O اکتوبر ۱۹۱۸ء کے آخر میں سیاسی قیدی کی حیثیت سے اوّلاً قاہرہ اور ثانیا مئی ۱۹۱۹ء میں لاہور لائے گئے۔بعد ازاں حضرت خلیفۃ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کی کوششوں سے آپ قید سے رہا ہوئے۔(خودنوشت سوانح حیات ولی اللہ شاہ صاحب) ۱۹۱۸ ء میں مصر میں چند ماہ قیام کے بعد آپ قاہرہ چھوڑ کر حلب چلے گئے۔آپ بیت المقدس میں اپنے تعلیمی امتحان میں اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوئے۔یہاں آپ صلاح الدین ایوبیہ کالج میں وائس پرنسپل مقرر ہوئے بعد ازاں سلطانیہ کالج میں پرنسپل مقرر ہوئے۔( خودنوشت سوانح حیات ولی اللہ شاہ صاحب) فروری ۱۹۲۰ء میں بطور کارکن تصنیف قادیان میں خدمات بجالاتے رہے۔یکم مئی ۱۹۲۰ ء سے یکم اپریل ۱۹۲۱ ء تک بطور نائب ناظر خدمات بجالاتے رہے۔۱۹۲۰ء میں قائمقام ناظر امور عامہ کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔( خودنوشت سوانح حیات ولی اللہ شاہ ) ۲۰ نومبر ۱۹۲۰ء میں آپ کا نکاح ایک ہزار روپے حق مہر پر سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے مکرمہ مہر النساء بیگم صاحبہ بنت حضرت امیر محمد خان صاحب کے ساتھ پڑھایا۔(الحکم قادیان ۲۱ نومبر ۱۹۲۰ء صفحه ۹) یکم مئی ۱۹۲۳ء سے ۱۶/ ۱اپریل ۱۹۲۴ ء تک آپ نے ناظر دعوۃ و تبلیغ کے طور پر