حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 113 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 113

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 113 کچھ یادیں، کچھ تاثرات میں ہمرنگی کی دلیل ہے۔( بیت ) یعنی خدا کے گھر میں اکٹھے ہو گئے ہیں گویا جس طرح اس دنیا میں لکھی محبت کے ذریعہ ہمرنگ اور ہم مشرب ہیں عقبے میں بھی ہماری ملاقاتیں ہوتی رہیں گی جو قادیان کے نور سے منور ہونے کے ذریعہ سے ہونگی۔انشاء اللہ تعالیٰ“۔روز نامه الفضل ربوه ۱۸ مئی ۱۹۶۷ء) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ کی یاد میں مکرم شیخ نور احمد صاحب منیر مربی سلسلہ (مرحوم و مغفور ) لکھتے ہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) طویل عرصہ سے صاحب فراش تھے۔بیماری نے مدوجزر کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔مجھے حضرت شاہ صاحب کی عیادت کیلئے کئی دفعہ ان کے ہاں جانے کا اتفاق ہوا ان کے منہ سے روحانیت اور نورانیت سے پُر کلمات نکلتے۔رضائے ربانی اور شکر الہی کے جذبہ سے پُر ان کی گفتگو ہوتی۔بالآخر ۱۵ اور ۶ امئی کی درمیانی شب کو ان کا وقت موجود آ پہنچا اور كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ کے مطابق احمدیت کی یہ خوشنوا عندلیب دنیا سے پرواز کر گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تاریخ احمدیت میں حضرت شاہ صاحب کا مقام اس لحاظ سے امتیازی حیثیت رکھتا تھا کہ وہ (رفیق) ابن (رفیق) تھے۔سلسلہ کی کئی خاص خدمات کی اللہ تعالیٰ نے انہیں سعادت عطا فرمائی۔آپ کو سالہا سال تک مختلف نظارتوں کا قلمدان سونپا جا تارہا۔آپ کی زندگی فعال زندگی تھی۔حضرت شاہ صاحب کو حضرت خلیفہ اول ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کے زمانے میں عربی کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے مصر بھیجا گیا۔آپ کے اس سفر کے اخراجات مجلس انصار اللہ نے دئے تھے۔آپ ۲۲ جولائی ۱۹۱۳ء کو قادیان سے حضرت خلیفہ اول ( نوراللہ مرقدہ) کی دلی دعاؤں کے ساتھ روانہ ہوئے بعض وجوہات کی بناء پر قاہرہ میں زیادہ قیام نہ کر سکے اور آپ عربی کی تدریس کیلئے بیروت اور بعد ازاں حلب چلے گئے اور بیت المقدس میں آپ نے عربی ادب کا امتحان پاس کیا۔چوٹی کے اساتذہ سے آپ نے تعلیم حاصل کی۔چنانچہ آپ کے اساتذہ میں