حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 114
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 114 کچھ یادیں، کچھ تاثرات الشيــخ هـاشـم الشريف الخليل البيروني - عــلامـه الشيخ بشير الغزمي الحلبي العضو في مجلس الاعیان العثمانی ( ترکی پارلیمنٹ کے ممبر ) اور الشیخ صالح الرافعی الطرابلسی تھے۔ان اساتذہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے شاہ صاحب مرحوم تحریر فرماتے ہیں:۔یعنی میں اس گھڑی کو ہر وقت یاد کرتا ہوں کہ جب میرے یہ استاد مجھے پڑھایا کرتے تھے۔تاریک رات ، موسلا دھار بارش ، غضب کی ٹھنڈک اور سردی اور نیند کا شدید غلبہ ، بعض اوقات رات کے بارہ بج جاتے مگر یہ اساتذہ مجھے پڑھانے کی انتہائی خواہش رکھتے تاکہ میں اپنی تعلیم کی جلدی سے تکمیل کر سکوں اور یہ کام محض بغیر اجر وخواہش کے کیا کرتے تھے کیونکہ ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ مجھ میں خیر و برکت کو دیکھتے ہیں“۔دیار عرب میں کارنامے استاذ الشیخ صالح الرافعی آپ سے بہت ہی محبت وعقیدت رکھتے تھے اور وہ آپ کی (دعوت الی اللہ ) سے بیعت بھی کر چکے تھے چنانچہ اس ضمن میں ایک تاریخی مگر نا قابل فراموش واقعہ بیان کرتا ہوں۔میرے قیام بیروت میں ایک مرتبہ بیروت کی میونسپلٹی کے ایک کارکن ٹیکس وصولی کیلئے آئے۔عاجز نے ان کو بٹھایا اور ان کی تواضع کی۔اس دوران میں کئی امور پر باہمی تبادلہ خیالات ہوا۔وہ کہنے لگے کہ میرے والد صاحب مرحوم بھی اس عقیدہ کے تھے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے اور میں نے ان کو قبول کر لیا ہے۔میں ابھی اس وقت چھوٹی عمر کا تھا۔جب میں نے ان کے والد کا نام پوچھا تو انہوں نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔الشیخ صالح الرافعی الطرابلسی۔ان صاحب کا کہنا تھا کہ استاذ زین العابدین ہمارے گھر روزانہ عربی پڑھنے کیلئے آیا کرتے تھے اور میں دروازہ کھولا کرتا تھا۔ان کے گھر ایک فوٹو بھی حضرت شاہ صاحب کا ہے۔جس پر الشیخ صالح الرافعی کی یہ عبارت درج ہے۔تلميذ مِنْ تَلَامِيذِ المَهْدِي عَلَيْهِ السَّلَامِ جَاء مِنِ الْهِنْدِ لِتَلَقِي الْعُلُومِ الْعَرَبِيَّةِ يعنى حضرت مہدی علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد جو ہندوستان سے عربی کی تع