حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 105
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 105 ذكر حبيب پڑھی جب بٹالہ پہنچے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا تابوت اتار کر اسٹیشن بٹالہ کے پلیٹ فارم پر رکھا گیا۔میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رات کو اس تابوت کا پہرہ دیا۔جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جسد مبارک باغ والے مکان میں رکھا گیا تو حضرت خلیفہ مسیح الثانی ( نوراللہ مرقدہ) سے میں نے اور میرے بھائی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا چہرہ مبارک دیکھنا چاہتے ہیں۔چنانچہ آپ ہمیں باغ والے مکان کے اس کمرہ میں لے گئے جہاں حضور علیہ السلام کا جنازہ رکھا ہوا تھا۔حضرت ( اماں جان ) جنازہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ہم گئے اور ہم نے حضور علیہ الصلاة والسلام کے خاموش چہرہ کو دیکھا اور چپ سے ہو کر رہ گئے اور باہر آ کر اس کمرہ کے سامنے جو لوکاٹ کے درخت تھے۔ان میں سے ایک درخت کے نیچے ہم تینوں کھڑے ہو گئے۔اس وقت حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چہرہ کو دیکھ کر اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہے کہ اگر ساری دنیا بھی حضور کو چھوڑ دے تب بھی میں اس عہد بیعت کو نہیں چھوڑوں گا جو حضور سے کیا تھا۔الفضل قادیان ۱/۲۴ پریل ۱۹۴۳ صفحه ۳۰۴)