حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 80 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 80

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 80 خود نوشت حالات زندگی فقیروں وغیرہ کی مجلس میں بغرض تحقیق بے دھڑک چلا جاتا تھا جو بظاہر اولیائی کا دم بھرتے ہیں مگر حقیقت سے نا آشنا محض تاثیر قدسی سے بالکل کورے۔اخلاص کے نظارے تیسرا واقعہ جو اب ذکر کرنے لگا ہوں اس کا تعلق اس زمانے سے ہے جب میں شام و مصر سے بطور شاہی قیدی اپنے وطن میں واپس لایا گیا۔ایک دن میں لاہور میں تھا۔مجھے معلوم نہ تھا کہ جماعت احمد یہ نماز کہاں پڑھتی ہے۔مجھے اتنا علم ہوا کہ دہلی دروازہ میں نماز جمعہ پڑھی جاتی ہے۔میں دہلی دروازہ جا پہنچا اور وہاں ایک ( بیت ) میں نمازی دیکھے اور میں اندر چلا گیا۔لیکن جس افراتفری میں سنتیں پڑھی جارہی تھیں اور خطبہ جمعہ کا جو انداز تھا اس سے میں نے معلوم کیا کہ یہ نہ احمدیوں کی نماز ہے اور نہ ان کا خطبہ۔باہر نکلا تو ایک احمدی دوست نے پہچانا۔وہ حیران ہو کر پوچھنے لگے کہ میں یہاں کیسے؟ میں نے کہا کہ میں اس جگہ کی تلاش میں ہوں جہاں احمدی نماز پڑھتے ہیں۔وہ مجھے اپنے ساتھ وہاں لے گئے۔ایک باغیچہ میں دوست جمع تھے۔میں نے جا کر سنتیں پڑھیں۔خطبہ کے انتظار میں ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک صاحب سفید لباس میں ملبوس سفید رومال ہاتھ میں تھامے ہر شخص کے پاس جاتے اور اپنا رومال پیش کرتے۔ہر شخص روپیہ دور و پیہر آنے دو آنے۔پیسہ دو پیسے حسب توفیق اس میں ڈالتا میں نے پوچھا یہ کیا ہے۔بتایا کہ یہ (بیت) کیلئے چندہ جمع ہو رہا ہے۔سالہا سال ان کا یہی طریق رہا اور سالوں کے بعد آخر احمدیہ ( بیت ) ان پیسوں سے تیار ہوئی جس کے لئے ہر شخص کے سامنے مدتوں ہاتھ پھیلائے جاتے رہے۔کیا ہی عجیب یہ ہمت واستقلال کا نمونہ تھا۔خدا کیلئے بھیک مانگنے سے اس بزرگ نے ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔یہ وہ ( بیت ) ہے جو بیرون دہلی دروازہ میں واقعہ ہے۔یہ بزرگ بہت نازک مزاج اور دلیہ طبع تھے۔ایک دن ( بیت ) احمد یہ والی گلی میں شام کے وقت میں انتظار کرنے لگا کہ اذان ہو اور میں باجماعت نماز پڑھ کر واپس اپنی قیام