حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 81 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 81

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 81 خود نوشت حالات زندگی گاہ کو جاؤں۔میں نے ایک دوست سے جو میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا کتنا احسان ہے کہ ہمیں نماز پڑھنے کیلئے ایک (بیت) میسر ہے اور بتایا کہ وہ وقت تھا جب باہر درختوں کے نیچے نماز پڑھی جاتی تھی اور اس بھیک کی داد دی جس کے لئے سالہا سال ہاتھ پھیلائے جاتے رہے۔تو سننے والے صاحب نے کہا۔روپیہ ضائع کر دیا اور تعمیر (بیت) کے متعلق کئی نقائص گن ڈالے۔ان کے چہرے پر داغ تھے۔میں نے کہا نقص نکالنا کونسی بڑی بات ہے۔خدا کی پیدائش میں بھی تو نقص نکالے جاسکتے ہیں۔کام کرنا مشکل ہے کام کے بعد نکتہ چینی آسان اور ان پر ناراضگی کا اظہار کیا۔انہیں بھی میں نے قریب سے دیکھا اور فرشتہ خصلت بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عاشق پایا اور خدمت دین کا بہت بڑا جوش رکھتے تھے ان کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے محمد اسماعیل صاحب قریشی ہیں جو راولپنڈی میں ملازم اور مقیم ہیں اور مخلص نوجوان ہیں اور ( دین حق) کی خدمت سے دریغ نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا ہی عجیب اسلوب بیان میں ہماری راہنمائی فرمائی ہے۔فرماتا ہے:۔وَالَّذِينَ جَاءُ وَ مِنْ بِعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالِا يُمَانِ وَلَا تَجْعَلُ فِي قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (سورۃ حشر: 11) اور جو لوگ ان کے زمانہ کے بعد آئے وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں مومنوں کا کینہ نہ پیدا ہونے دے۔اے ہمارے رب! تو بہت مہربان اور بے انتہا کرم والا ہے۔جن حالات میں صحابہ کرام رضوان اللہ میم نے دین اسلام کیلئے قربانیاں کیں۔وہ نہایت ہی کڑے حالات تھے جن کی نزاکت اور شدت کا بعد میں آنے والے اندازہ نہیں کر سکے۔اگر ان کے کاموں میں کوئی خامی نظر آئے تو وہ ایک طبعی اور لازمی ہے ہو سکتا ہے اپنی ہی نظر میں نقص ہو جو کچھ ان کے ہاتھوں انجام پایا وہ خطرناک اور مشکل حالات میں ایک خارق عادت