حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 38
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 38 خود نوشت حالات زندگی ہے۔مرتب) اور اس کے بعد جب رستم حیدر مجھے اپنے مکان پر لائے تو اپنے سیکرٹری سے ایک درخواست عربی میں ٹائپ کروائی جس پر میں نے دستخط کئے اور وہ درخواست بادشاہ کے سامنے پیش ہوئی جس پر انہوں نے مجلس کو غور کرنے کا حکم دیا اور اس طرح یہ درخواست تین ماہ تک دفتروں میں چکر لگاتی رہی اور کئی مایوسیوں کے بعد ایک شام مغرب کی نماز سے ہم دوست فارغ ہوئے تھے کہ سرکاری اردلی پیغامبر نے آ کر جعفر صادق مرحوم امیر جماعت احمد یہ بغداد کو ایک لفافہ دیا۔وہ کھولا گیا۔اس میں بادشاہ کی مہر کے ساتھ وزارت داخلہ کی طرف سے یہ اطلاع تھی کہ بادشاہ کی طرف سے ان کا سابقہ حکم منسوخ کر دیا گیا ہے اور جماعت احمد یہ کومکمل ( مذہبی ) آزادی دی جاتی ہے۔یہ الفاظ پڑھ کر جو دوست نماز مغرب میں حاضر تھے بے اختیار سر بسجو د ہو گئے کیونکہ ان کی مایوسی کی حالت آخری نقطہ یاس تک پہنچ چکی تھی۔یہاں تک کہ اس سے ایک ہفتہ قبل شیخ منظور واحد حسین صاحب پولیس انسپکٹر مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے کہ جماعت احمد یہ بغداد سخت ابتلاء میں ہے۔آپ نے ہر جمعہ میں کوئی نہ کوئی خواب سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور کامیاب کرے گا اور کامیابی یہ ہوئی ہے کہ حکومت نے جواب دے دیا ہے کہ ملک کے حالات ابھی سابقہ پابندی قائم رکھنے کے متقاضی ہیں بعد میں غور ہوگا۔یہ جواب وزارت داخلہ کی طرف سے برطانوی مستشار داخلی کے مشورہ پر ایک ہفتہ قبل جماعت کو دیا گیا تھا جس سے وہ بہت مایوس تھی لیکن اسی رات میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک کشتی میں سوار ہوں جو غرق ہو رہی ہے اور جو نبی کہ وہ پانی کے نیچے جانے لگی ہے آسمان سے ایک رسی پھینکی گئی جو میرے ہاتھ میں ہے اور اس آسمانی سہارے سے میری کشتی او پر آ گئی ہے اور سلامتی سے تیرتے ہوئے ان جہازوں کا رُخ کیا جو سمندر میں جا رہے ہیں اور میں سمجھا کہ اللہ تعالی خارق عادت مدد فرمائے گا۔میں نے برطانوی ہائی کمشنر سر ہنری ڈولب (Sir Henry Dolb)۔ملاقات کا وقت مانگا تھا۔اس خواب کے دوسرے دن ہی ان کا جواب آ گیا۔میں شیخ منظور واحد صاحب پولیس انسپکٹر کو ساتھ لے گیا۔انہیں تر ڈر تھا کہ وہ گورنمنٹ آفیشل ہیں۔علاوہ