حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 25
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 25 25 خود نوشت حالات زندگی ۱۹۲۰ء فروری میں بطور کارکن تصنیف کے مقرر ہوئی۔حضور (خلیفہ مسیح الثانی نوراللہ مرقدہ) کا ایک رسالہ "ترکی کا مستقبل“ شائع ہوا جو بہت پسند کیا گیا اور میں نے اس کا عربی ترجمہ کیا۔اسی طرح سیٹھ عبداللہ الہ دین کی فرمائش پر ان کے اُردو رسالہ بعنوان ” مسیح الموعود کا ترجمہ بھی شائع کیا لیکن ادارہ تصنیف میں تھوڑی دیر ہی کام کیا تھا کہ مجھے دوسری خدمت سپرد ہوئی۔ان دنوں اس ( تالیف و تصنیف) کا نام ادارہ ترقی دین حق ) تھا۔با قاعدہ نظارت بعد میں قائم ہوئی۔مندرجہ ذیل کوائف سے میری خدمات کی مجمل صورت ظاہر ہے۔نائب ناظر یکم مئی ۱۹۲۰ ء تا یکم اپریل ۱۹۲۱ء ناظر دعوة و تبلیغ یکم مئی ۱۹۲۳ء تا ۱۱۱۶اپریل ۱۹۲۴ء ناظر تعلیم و تربیت ۱۱۶ اپریل ۱۹۲۴ء تا ۱۵ جون ۱۹۲۵ء نام بطور (مربی) بلا دشام اور عراق عرب ۱۵ جون ۱۹۲۵ء تا آخرا پریل ۱۹۲۶ء ناظر تجارت یکم مئی ۱۹۲۶ء بطور رکن نظارت تالیف و تصنیف۔بحیثیت مصنف ترجمه و شرح بخاری از ۱/۲۸ کتوبر ۱۹۲۶ء تا ۲۲ جنوری ۱۹۳۱ء ( اس عرصہ میں معتد بہ حصہ عملاً بطور قائم مقام ناظر امور عامه وغیرہ کام کرنا پڑا اور تصنیف کا کام ایک دو سال ہے) ، ناظر دعوۃ الی اللہ ) جنوری ۱۹۳۱ ء تا ۱/۱۰اکتوبر ۱۹۳۶ء ناظر تعلیم و تربیت از ۲۳ نومبر ۱۹۳۶ ء تا ۱۴ فروری ۱۹۴۷ء قائمقام ناظر اعلی۔یکم ستمبر ۱۹۴۸ء تا ۲/اکتوبر ۱۹۴۸ء ناظر امور عامه و خارجه ۱۴ / فروری ۱۹۳۷ء تا ۴ استمبر ۱۹۴۷ء۔نظر بندی حکومت ہند ناظر امور خارجه جون ۱۹۴۸ء تا یکم دسمبر ۱۹۵۳ء ایڈیشنل ناظر اعلی - ۲۳ جنوری ۱۹۵۳ء تا یکم دسمبر ۱۹۵۳ء، یکم جون ۱۹۵۴ء