حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 120
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 120 کچھ یادیں، کچھ تاثرات نے شاہ صاحب کی خدمت میں بذریعہ تار عرض کی کہ Unable to eat rice and take tea without milk یعنی میں چاول کھانے اور قہوہ پینے کے قابل نہیں ہوں۔ڈاکخانہ میں ان دنوں کشمیر کی تحریک کے زور کی وجہ سے سی آئی ڈی بیٹھی ہوئی تھی۔ان دونوں تاروں کی نقل حکومت کشمیر کے پاس بھیجی گئی جس پر کشمیر کے گورنر سردار عطر سنگھ اور اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس جو مسلمان تھے دونوں نے مجھے کہا کہ آپ سید ولی اللہ شاہ صاحب کے ساتھ یہ کیا تار بازی کر رہے ہیں کیا آپ کسی سازش کے مرتکب ہو رہے ہیں۔حکومت کشمیر نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کو کشمیر کی حدود سے نکل جانے کیلئے کہے۔میں نے ہزار سمجھانے کی کوشش کہ کہ جناب میں (مربی) ہوں مجھے سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں میں تو قرآن وحدیث کی کرلیں کی تعلیم دینے جماعت کی تربیت کے سلسلہ میں آیا ہوں۔ڈاکٹر سے دریافت کر لیں میں بیمار ہوں اس کی رائے تھی جس کی میں نے اپنے ہیڈ آفس میں اطلاع بھجوائی وہاں سے مشورہ آیا کہ چاول استعمال کروں اور قہوہ پیا کروں۔میں نے کہا کہ یہ میرے لئے مشکل ہے۔گورنر عطر سنگھ کہنے لگے ہم کوئی بات نہیں جانتے۔سید ولی اللہ شاہ صاحب کی طرف سے یہ تار ہے اور تم نے ان کو تار دی ہے وہ کشمیر کی تحریک میں بڑا اہم کردار ادا کر رہے ہیں ضرور کوئی سیاسیات کے متعلق سازش ہے۔ان کی بات سن کر لطف بھی بڑا آیا کہ حضرت شاہ صاحب سے حکومتِ کشمیر کس قدر خوف زدہ ہے۔مہاراجہ سے لے کر نیچے کے افسروں تک گھبراتے تھے۔بڑی دلیری سے کام کرنے والے کارکن تھے اور کام کو اس رنگ میں انجام دیتے کہ وَ الشَّزِعَتِ غَرقاً “ کی تعبیر سامنے آجاتی ہے اپنے تو کیا غیر بھی متاثر ہوئی غیر نہ رہتا تھا۔بعد میں خاکسار حذیفہ چلا گیا۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) کے ارشاد کی تعمیل میں حضرت شاہ صاحب نے کوشش کی اور حکومت کشمیر کے آرڈرز خاکسار کے متعلق منسوخ ہو گئے۔حضرت شاہ صاحب کو اس بات کا بڑا شوق بلکہ تڑپ رہتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ 66