حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 119 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 119

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 119 کچھ یادیں، کچھ تاثرات ہمیں مالی وسعت نہیں اور بڑی بڑی کتب کا خریدنا مشکل ہے۔بغیر کسی درخواست یا خواہش کے از خود انہوں نے بہت سی قیمتی کتب اپنی گرہ سے خرید کر مہیا کیں۔ان کتب میں فتوح البلدان اور الکامل فی التاریخ “ بھی شامل تھیں۔اس پر آپ نے مزید یہ مہربانی کی کہ وقت بھی دیا کہ میں ان سے ان کتب کو پڑھا بھی کروں۔عربی علاقوں میں رہنے کے باعث تاریخ ایسے طور پر پڑھاتے کہ آنکھوں دیکھی کیفیت بیان کر رہے ہیں اور الکامل اس طریق سے پڑھاتے کہ گویا ایک بہت بڑا ادیب عربی زبان کا عاشق یہ کتاب پڑھا رہا ہے۔مجھے یاد ہے ان کے اس ادبی و تاریخی درس میں جو بعد نماز عصر ان کی دارالانوار کی کوٹھی میں جاری رہتا بعض اور میرے کلاس فیلو بھی شامل ہو جاتے اور فائدہ اٹھاتے۔یہی طریق اس وقت دوسرے بزرگوں کا بھی تھا۔کشمیر میں خدمات ۱۹۳۴ء کے شروع میں مشرقی افریقہ جانے سے پہلے کی بات ہے حضرت شاہ صاحب تحریک آزادی کشمیر میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی ہدایات کے مطابق بہت اہم کام کر رہے تھے۔ادھر آپ ناظر (اصلاح وارشاد ) بھی تھے۔خاکسارکو حضرت خلیفہ اسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو) کے ارشاد پر حضرت شاہ صاحب نے کشمیر بھجوایا۔میں وہاں جا کر بیمار ہو گیا جنوری کا مہینہ تھا۔سردی بھی سخت تھی یوں بھی نیا نیا باہر جانے لگا تھا۔کچھ گھر کی جدائی نے ستایا اور بیمار پڑ گیا۔سرینگر میں ایک مشہور ڈاکٹر چاولہ تھے جو ہندو تھے ان سے میں ملا انہوں نے کہا کہ آپ کو یہاں کی آب و ہوا موافق نہیں بہتر ہوگا کہ آپ واپس پنجاب چلے جائیں خود بخود دطبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔حضرت شاہ صاحب چونکہ ناظر ( دعوۃ الی اللہ ) تھے خاکسار نے اپنی بیماری اور ڈاکٹر کی رائے سے انہیں اطلاع دی۔حضرت شاہ صاحب نے اپنے نام سے بذریعہ تار مجھے ہدایت دی کہ Eat rice and take یعنی چاول کھائیں اور قہوہ پیئیں۔اس کے جواب میں خاکسار tea without milk