حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 115 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 115

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 115 کچھ یادیں، کچھ تاثرات کیلئے آئے۔الشیخ صالح الرافعی سے بیرونی ملک کے کئی طلباء مفت تعلیم حاصل کیا کرتے تھیاور وہ بڑے اخلاص سے یہ کام کیا کرتے حضرت شاہ صاحب کو یہ استاذ علاوہ عربی ادب کے عربی تلفظ بھی سکھایا کرتے تھے اور حروف مشابہہ یعنی (۱۔ع۔ء۔س۔ص۔ث۔ت۔ط۔ق۔ک۔ذ۔ظـ ز- ح۔(۵) کا باہمی فرق اور مخرج بھی سکھایا کرتے تھے۔مکرم شاہ صاحب کے زمانہ قیام بیروت میں عثمانیہ حکومت شام کبری یعنی فلسطین، اُردن، شام اور لبنان پر حکمران تھی۔جنگ عظیم کا آغاز ہو چکا تھا۔مکرم شاہ صاحب نے ترکی حکومت کا ساتھ دیا اور انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔چنانچہ آپ کو انگریزوں نے گرفتار کر لیا تھا مشہور تر کی گورنر جمال پاشا نے ایک کالج کی بنیاد بیت المقدس میں رکھی جس کا نام كلية صلاح الدین الایوبی“ رکھا گیا۔مکرم شاہ صاحب اس کالج میں تین مضامین پڑھایا کرتے تھے۔تاریخ الادیان، انگریزی زبان اور اردو۔چنانچہ شاہ صاحب کے قدیم شاگردوں میں سے کئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار اور بالخصوص یہ شعر پڑھتے ہیں۔جمال وحسن قرآں نور جان ہر مسلمان ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآن ہے السيد منير الحصنی صاحب امیر جماعت احمد یہ دمشق بھی شاہ صاحب کے شاگردوں میں سے تھے۔شاہ صاحب کے شاگردوں میں معزز عرب خاندانوں کے کئی صاحبزادگان تھے۔اس کالج میں پروفیسر کی حیثیت سے شاہ صاحب کو اعلی علمی سوسائٹی سے رابطہ پیدا کرنے کا موقع مل گیا چنانچہ ان معززا کا برین میں الاستاذ كــو عـلـى وزير عليم حکومت شام، الاستاذ خلیل بک مرحوم وزیر خارجہ حکومت شام السید جمیل بک مرحوم وزیر اعظم شام اور الشیخ عبدالقادر المغربی پریذیڈنٹ پوپ اکیڈمی بھی تھے خاکسار کو قیام دمشق میں ان سے ملاقات کے کئی مواقع میسر آئے۔علاوہ ازیں مفتی اعظم